آتش فشاں کی راکھ بھارت کی جانب بڑھنے لگی، پاکستان کا فضائی علاقہ صاف
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
فوٹو: سوشل میڈیا
ایتھوپیا میں 12 ہزار سال سے خاموش آتش فشاں پھٹنے سے نکلنے والی راکھ پاکستان کے بعد اب بھارت کی جانب بڑھ چکی ہے، پاکستان کا فضائی علاقہ صاف ہوچکا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان انجم نذیر نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کی فضائی حدود اب صاف ہوچکی ہے، آتش فشاں کی راکھ بھارتی راجستھان کی جانب جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ آتش فشاں کی راکھ پاکستان کے شمالی علاقوں کو متاثر نہیں کرے گی، یہ راکھ سندھ کے اوپر بحیرہ عرب سے گزری تھی، سندھ کی زمین پر اس کے کوئی اثرات نہیں ہوئے۔
ایتھوپیا میں 12 ہزار سال سے خاموش آتش فشاں پھٹ گیا، آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ کے بادل یمن، عمان، بھارت اور پاکستان تک پہنچ گئے۔
ترجمان محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ منگل کی صبح 10 بجے گوادر کے جنوب میں 45 ہزار فٹ کی بلندی پر آتش فشاں کی راکھ دیکھی گئی تھی، آتش فشاں کی راکھ عام سیٹلائٹ پر نظر نہیں آتی ہے۔
انجم نذیر نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آتش فشاں کی راکھ کی ایڈوائزر ایوی ایشن کو جاری کی گئی، آتش فشاں کی راکھ کی بلندی 45 ہزار فٹ سے زائد تھی۔
دوسری جانب بھارتی محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ آتش فشاں سے اٹُھنے والی راکھ کے اثرات دلی، گجرات اور راجستھان تک دیکھے گئے۔
بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق آتش فشاں سے اٹھنے والی راکھ کے اثرات پنجاب اور ہریانہ تک بھی دیکھے گئے، راکھ کے بادل منگل کی شام ساڑھے سات بجے تک بھارت سے نکل جائیں گے۔
بھارتی محکمہ موسمیات نے کہا کہ راکھ کے بادل چین کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: آتش فشاں کی راکھ تش فشاں کی راکھ محکمہ موسمیات راکھ کے بادل کی جانب
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔