خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پہلی بار زعفران کی خوشبو بکھرنے لگی ہے، کیونکہ مقامی سطح پر لگائے گئے زعفران کے پودوں نے پھول دینا شروع کر دیا ہے۔ یہ ایک اہم پیشرفت ہے جو مستقبل میں علاقے کی معیشت اور زراعت دونوں کے لیے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔

محکمہ زراعت سوات نے مقامی زمینداروں کے تعاون سے سرکاری سطح پر مختلف علاقوں میں زعفران کے پودے لگائے، جو اب کامیابی سے پھول لا رہے ہیں۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو جلد سوات اپنی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ زعفران کی خوشبو اور پیداوار کے باعث بھی شناخت حاصل کرے گا۔ یہ منصوبہ نہ صرف سوات بلکہ خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع کی معیشت کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن ڈاکٹر افتخار احمد نے وی نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ زعفران کی فصل پہلی بار خیبر پختونخوا میں متعارف کروائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت 114 کنال رقبے پر زعفران کی کاشت کی گئی۔ سوات کی زمین، آب و ہوا اور درجہ حرارت زعفران کے لیے موزوں ہیں، جس کے باعث یہ تجربہ نہایت کامیاب رہا۔

ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ یہ کاشت لوئر سوات کی 3 تحصیلوں کبل، بریکوٹ اور بابوزئی میں کی گئی ہے۔ ابتدا میں کاشتکار اس فصل کو اپنانے پر رضامند نہیں تھے، کیونکہ ستمبر میں ان کی دیگر فصلیں تیار ہوتی ہیں اور زمین خالی کرنا ان کے لیے مشکل تھا۔ تاہم محکمہ زراعت نے انہیں زعفران کی آمدنی، درکار تربیت اور موزوں ماحول کے بارے میں آگاہ کر کے قائل کیا۔ محکمہ زراعت کا عملہ ویک اینڈ پر بھی متحرک رہا اور دن رات محنت کرکے کاشتکاروں کو عملی تربیت فراہم کی۔

ڈاکٹر افتخار نے مزید بتایا کہ 15 ستمبر سے 15 اکتوبر زعفران کی کاشت کا بہترین وقت ہے۔ سوات کے کئی زمینداروں نے دیگر فصلوں کو ترک کرکے زعفران کی کاشت شروع کر دی ہے، اور یہ تجربہ صوبے میں پہلی مرتبہ کامیابی سے ہوا ہے۔

تحصیل بریکوٹ کے زمیندار شہاب خان نے بتایا کہ انہوں نے پہلی بار زعفران کی کاشت کی اور محکمہ زراعت نے ہر مرحلے پر رہنمائی کی۔ فصل نے 27 اکتوبر سے پھول دینا شروع کیا اور فی کنال روزانہ 2 سے 3 سو پھول حاصل کیے جا رہے ہیں۔ شہاب خان نے کہا کہ وہ اس تجربے سے مطمئن ہیں اور پر امید ہیں کہ یہ فصل ان کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کرے گی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں زعفران کی قیمت تقریباً 12 لاکھ روپے فی کلو ہے، جبکہ بین الاقوامی منڈی میں یہ ڈالروں میں فروخت ہوتی ہے، جس سے کسان کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔

سوات میں پیدا ہونے والا زعفران معیار کے اعتبار سے بھی شاندار قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کا رنگ، خوشبو، اور سب سے اہم حصہ یعنی اسٹگما بین الاقوامی معیار کے مطابق یا اس سے بہتر پایا گیا ہے۔ جلد ہی لیبارٹری ٹیسٹنگ مکمل ہو جائے گی، جس سے معیار کی سائنسی تصدیق بھی ہو جائے گی۔

عالمی سطح پر زعفران کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ دنیا کی 90 فیصد پیداوار ایران میں ہوتی ہے، جبکہ افغانستان، اسپین اور کشمیر بھی نمایاں پیدا کرنے والے علاقوں میں شامل ہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کے زعفران کی قیمت تقریباً 17 ہزار ڈالر فی کلو تک پہنچ سکتی ہے، جو اس کی معاشی اہمیت کو بڑھا دیتی ہے۔

اس کامیاب تجربے کے بعد محکمہ زراعت سوات اور خیبر پختونخوا حکومت نہ صرف زعفران کو بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے بلکہ اس کی لائسنسنگ، کوالٹی سرٹیفیکشن اور برآمدی منظوری جیسے تمام مراحل مکمل کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ لانے کا منصوبہ بھی بنا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: زعفران کی کاشت خیبر پختونخوا بین الاقوامی بتایا کہ کے لیے

پڑھیں:

جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری

جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقے

نشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق

اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگ

اسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔

دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔

محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیل

محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔

مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا

ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی