ایتھوپیا میں پھٹنے والے آتش فشاں کی راکھ کے بادل بھارتی شہروں تک پہنچ گئے جب کہ پاکستان کی فضائی حدود اب کلیئر ہوچکی ہے۔ایتھوپیا میں 12 ہزار سال بعد آتش فشاں پھٹنے سے فضاء میں پھیلنے والی راکھ کے اثرات پاکستان کے بعد اب بھارتی شہروں تک بھی پہنچ گئے ہیں۔ بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق راکھ کے اثرات گجرات، نئی دہلی ، راجستھان، پنجاب اور ہریانہ تک دیکھے گئے جب کہ راکھ کے باعث فلائٹ آپریشنز کے دوران راستوں میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔بھارتی میڈیا کا بتانا ہےکہ ائیر انڈیا نے احتیاطی تدابیر کے طور پر ان طیاروں کی پروازیں منسوخ کردی ہیں جو آتش فشاں کے زیرِ اثر فضائی راستوں سے گزرے تھے۔بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق راکھ کے بادل چین کی جانب بڑھ رہے ہیں اور منگل کی شام ساڑھے 7 بجے تک بھارت سے نکل جائیں گے.

ترجمان محکمہ موسمیات پاکستان انجم نذیر نے بتایا کہ آتش فشاں کی راکھ اب بھارت کی جانب بڑھ چکی ہے اور پاکستان کا فضائی علاقہ صاف ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ آتش فشاں کی راکھ بھارتی راجستھان کی جانب جائے گی اور پاکستان کے شمالی علاقوں کو یہ متاثر نہیں کرے گا، یہ راکھ سندھ کے اوپر بحیرہ عرب سے یہ گزری تھی، سندھ کی زمین پر اس کے کوئی اثرات نہیں ہوئے ہیں جب کہ پاکستان کی فضائی حدود اب کلیئر ہے۔ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایوی ایشن کو آتش فشاں کی راکھ کی ایڈوائزری جاری کی، آتش فشاں کی راکھ کی بلندی 45 ہزار فٹ سے زائد تھی جب کہ ہمارا ڈومیسٹک فلائٹ آپریشن 36 ہزار اور بین الاقوامی فلائٹ آپریشن 40 ہزار سے 48 ہزار فٹ کی بل

ندی پر ہوتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: آتش فشاں کی راکھ راکھ کے

پڑھیں:

دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا

کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ