دلہا کی غیر اخلاقی حرکت؟ شادی ملتوی ہونے کی وجہ بنی، سمرتی مندھنا
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
بھارت (ویب ڈیسک) ویمنز کرکٹ ٹیم کی اسٹار بیٹر سمرتی مندھنا اور میوزک کمپوزر پلاش موچل کی شادی اچانک ملتوی ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر چہ مگوئیاں جاری ہیں۔ اب فلمی ناقد کمال آر خان المعروف کے آر کے نے اس تاخیر کی ایک چونکا دینے والی وجہ بتا کر نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ شادی 23 نومبر کو مہاراشٹر کے شہر سانگلی میں ہونا طے تھی، مگر سمرتی مندھنا کے والد کی طبیعت خراب ہونے اور اسپتال میں داخل ہونے کے باعث تقریب غیر معینہ مدت کےلیے موخر کردی گئی۔ اس اچانک فیصلے نے شائقین اور میڈیا دونوں کو حیران کر دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سمرتی مندھنا نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے شادی سے متعلق تمام تازہ تصاویر اور ویڈیوز ہٹا دی ہیں، البتہ پرانی پوسٹس ابھی موجود ہیں۔ اس جوڑے نے شادی سے قبل ہلدی، مہندی اور سنگیت جیسی روایتی تقریبات بھی منعقد کی تھیں جن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ اب یہ تمام مواد بھی ان کے اکاؤنٹ سے حذف کردیا گیا ہے جس سے سوالات مزید بڑھ گئے ہیں۔
اسی دوران، کے آر کے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دعویٰ کر کے معاملے کو مزید گھمبیر بنا دیا۔ ان کے مطابق سمرتی نے شادی کی رسومات کے دوران پلاش موچل کو ایک کوریوگرافر لڑکی کے ساتھ ’’قریب حالت‘‘ میں دیکھ لیا، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
کے آر کے نے الزام لگایا کہ پلاش موچل دراصل نام اور شہرت حاصل کرنے کی نیت سے شادی کرنا چاہتا تھا۔
اس نئے دعوے نے پہلے سے موجود افواہوں کو مزید ہوا دے دی ہے، جبکہ جوڑے کی جانب سے اب تک اس افواہ یا کمال آر خان کے بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔