دو بیویوں کے ہمراہ شادی کی سالگرہ منانے پر اقرار الحسن تنقید کی زد میں آگئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
پاکستانی میزبان اور معروف انویسٹی گیٹو جرنلسٹ اقرار الحسن ایک بار پھر اپنی ذاتی زندگی کی وجہ سے سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے۔
معروف اینکر اقرار الحسن اور ان کی اہلیہ عروسہ خان کی شادی کی سالگرہ کی ایک تصویر گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ وائرل تصویر میں اقرار الحسن کی پہلی بیوی قرۃالعین اقرار بھی موجود ہیں جس پر مداحوں کی جانب سے حیرت اور دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اقرار الحسن کی تین شادیوں کی خبریں پہلے ہی موضوعِ بحث رہی ہیں، 2023 میں اقرار الحسن نے اپنی تیسری شادی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نکاح ان کی پہلی بیوی قرۃ العین اقرار کی مرضی سے ہوا تھا۔
اقرار الحسن کی دوسری اہلیہ عروسہ خان کا قرۃ العین اقرار اور پہلاج الحسن کے ساتھ اچھا تعلق ہے جس کا ذکر اقرار مختلف انٹرویوز میں کرتے رہے ہیں۔
حال ہی میں اقرار الحسن اور عروسہ خان نے اپنی دوسری شادی کی سالگرہ قرۃ العین اقرار کے ساتھ منائی جس کی تصویر عروسہ خان نے شیئر کی اور اقرار الحسن نے بھی اسے ری پوسٹ کیا۔
جیسے ہی یہ تصویر سامنے آئی، سوشل میڈیا صارفین نے اس غیرمعمولی خاندانی ترتیب پر دلچسپ مگر تنقیدی تبصرے شروع کر دیے۔
اگرچہ یہ واضح نہیں کہ سالگرہ کی تقریب کب منائی گئی تاہم سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصویر نے سب کی توجہ حاصل کر لی، بعض مداحوں نے جوڑے کو مبارک باد دیتے ہوئے قرۃالعین کی موجودگی کو ایک مثبت مثال قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ پروگرام ’سرِعام‘ میں بطور اینکر دکھنے والے اقرار الحسن نے 2006 میں نیوز اینکر قرۃالعین سے پہلی شادی کی تھی جن سے ان کا ایک بیٹا ’پہلاج حسن‘ ہے۔
2012 میں اقرار الحسن نے اپنی دوسری شادی میڈیا پرسن فرح اقرار سے کی اور 5 سال تک اس شادی کو خفیہ رکھا۔ اقرار الحسن نے تیسری شادی نیوز اینکر عروسہ خان سے اکتوبر 2023 میں کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں اقرار الحسن اقرار الحسن نے سوشل میڈیا شادی کی
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔