پاکستانی میزبان اور معروف انویسٹی گیٹو جرنلسٹ اقرار الحسن ایک بار پھر اپنی ذاتی زندگی کی وجہ سے سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

معروف اینکر اقرار الحسن اور ان کی اہلیہ عروسہ خان کی شادی کی سالگرہ کی ایک تصویر گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ وائرل تصویر میں اقرار الحسن کی پہلی بیوی قرۃالعین اقرار بھی موجود ہیں جس پر مداحوں کی جانب سے حیرت اور دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

 اقرار الحسن کی تین شادیوں کی خبریں پہلے ہی موضوعِ بحث رہی ہیں، 2023 میں اقرار الحسن نے اپنی تیسری شادی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نکاح ان کی پہلی بیوی قرۃ العین اقرار کی مرضی سے ہوا تھا۔

اقرار الحسن کی دوسری اہلیہ عروسہ خان کا قرۃ العین اقرار اور پہلاج الحسن کے ساتھ اچھا تعلق ہے جس کا ذکر اقرار مختلف انٹرویوز میں کرتے رہے ہیں۔

حال ہی میں اقرار الحسن اور عروسہ خان نے اپنی دوسری شادی کی سالگرہ قرۃ العین اقرار کے ساتھ منائی جس کی تصویر عروسہ خان نے شیئر کی اور اقرار الحسن نے بھی اسے ری پوسٹ کیا۔ 

جیسے ہی یہ تصویر سامنے آئی، سوشل میڈیا صارفین نے اس غیرمعمولی خاندانی ترتیب پر دلچسپ مگر تنقیدی تبصرے شروع کر دیے۔

اگرچہ یہ واضح نہیں کہ سالگرہ کی تقریب کب منائی گئی تاہم سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصویر نے سب کی توجہ حاصل کر لی، بعض مداحوں نے جوڑے کو مبارک باد دیتے ہوئے قرۃالعین کی موجودگی کو ایک مثبت مثال قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ پروگرام ’سرِعام‘ میں بطور اینکر دکھنے والے اقرار الحسن نے 2006 میں نیوز اینکر قرۃالعین سے پہلی شادی کی تھی جن سے ان کا ایک بیٹا ’پہلاج حسن‘ ہے۔

2012 میں اقرار الحسن نے اپنی دوسری شادی میڈیا پرسن فرح اقرار سے کی اور 5 سال تک اس شادی کو خفیہ رکھا۔  اقرار الحسن نے تیسری شادی نیوز اینکر عروسہ خان سے اکتوبر 2023 میں کی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں اقرار الحسن اقرار الحسن نے سوشل میڈیا شادی کی

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی