اسلام کا معاشی نظام آزاد مارکیٹ سے قریب تر ہے، ڈاکٹر حسین محی الدین
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل کا عوامی تاجر اتحاد کے رہنمائوں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ ؐ نے فرمایا ایماندار تاجر قیامت کے دن انبیا و شہداء کے ساتھ ہوں گے، اسلامی معاشی نظام جائز منافع سے نہیں روکتا،اسلامی معاشیات کا بنیادی مقصد معاشرے میں کمزور طبقات کی خوشحالی ہے، اسلام کا معاشی نظام جدید دور کے چیلنجز کا موثر حل بھی فراہم کرتا ہے اور حقیقی فلاحی ریاست کی ضمانت دیتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل، ماہر معاشیات، پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ اسلام کا معاشی نظام آزاد مارکیٹ کے قریب تر ہے، اسلامی معاشیات کا بنیادی مقصد معاشرے میں کمزور طبقات کی خوشحالی ہے، اسلام کا معاشی نظام جدید دور کے چیلنجز کا موثر حل بھی فراہم کرتا ہے اور حقیقی فلاحی ریاست کی ضمانت دیتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں عوامی تاجر اتحاد کے عہدیداران سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ اسلامی معاشیات میں تجارت کو بڑی اہمیت حاصل ہے، رسول اکرمﷺ نے فرمایا ’’سچے اور ایماندار تاجر قیامت کے دن، انبیا، صدیقین اور شہداء کیساتھ ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی تجارت میں دھوکہ، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری کی سخت ممانعت ہے، باہمی رضا مندی، شفاف لین دین، انصاف اور اعتماد تجارت کی بنیاد ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی معیشت کے نظام کو اکثر غلط طور پر محدودیت یا اشتراکیت سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ اسلامی تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ اسلام کا معاشی نظام آزاد مارکیٹ کے جدید اصولوں کے مطابق ہے، اسلامی معاشی نظام جائز منافع سے نہیں روکتا بشرطیکہ اس میں کسی پر ظلم نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں زکوۃ کا نظام غریبوں، مسکینوں، بے سہارا افراد، قرض داروں اور کمزور طبقات تک دولت کی منصفانہ تقسیم تک یقینی بناتا ہے۔ ہر صاحب نصاب مسلمان پر زکوۃ فرض ہے، اس نظام کا مقصد غربت کا خاتمہ، معاشرتی ہم آہنگی اور طبقاتی خلیج کو کم کرنا ہے۔اس موقع پر چیئرمین عوامی تاجر اتحاد حاجی محمد اسحق، جنید وارثی، چوہدری محمد راشد، شہزاد خان، ثاقب بھٹی و دیگر بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلام کا معاشی نظام اسلامی معاشی کہا کہ اسلام کہ اسلامی انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔