سامعہ حجاب کا امیر بوائے فرینڈ تلاش کرنے والا بیان، سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
اسکینڈلز کے باعث شہرت رکھنے والی ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کے ایک وائرل بیان نے سوشل میڈیا صارفین کو ایک بار پھر برہم کر دیا ہے۔
سامعہ نے اپنی ویڈیو میں کھل کر کہا کہ وہ دبئی میں ایک ایسے لڑکے کی تلاش میں ہیں جو انہیں مالی مدد فراہم کر سکے۔ انہوں نے کہا:
فی الحال میں اپنے مالی معاملات خود سنبھال رہی ہوں، لیکن میں سنجیدگی سے ایک بوائے فرینڈ کی تلاش میں ہوں کیونکہ تین ماہ سے سنگل ہوں، اور دبئی میں بغیر بوائے فرینڈ کے لڑکیوں کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہے۔ اگر کوئی دلچسپی رکھتا ہو تو رابطہ کرے۔ بڑے دل والے لڑکے لڑکیوں پر خرچ کرتے ہیں۔”
یہ بیان سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ متعدد لوگوں نے سامعہ کے رویے کو غیر موزوں اور سستی سوچ کی عکاسی قرار دیا۔ ایک صارف نے کہا، “کتنی گھٹیا سوچ ہے!”، جبکہ ایک اور نے لکھا، “کوئی بھی آپ پر مفت خرچ نہیں کرے گا، وہ بدلے میں کچھ توقعات رکھیں گے۔”
کچھ صارفین نے کہا کہ سامعہ کو مرد نہیں بلکہ محض امیر مردوں کی ضرورت ہے، اور ایک صارف نے اسے معاشرتی رویوں پر منفی اثر ڈالنے والا اقدام قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔