ڈاکٹر نبیہا علی خان کا شادی کے بعد حارث کھوکھر سے طلاق لینے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
معروف ماہرِ نفسیات، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور میڈیا پرسنالٹی ڈاکٹر نبیہا علی خان نے حال ہی میں اپنے دیرینہ دوست حارث کھوکھر سے نکاح کیا اور ان کا نکاح مولانا طارق جمیل کے گھر پر ہوا۔
نکاح کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں لیکن ساتھ ہی جوڑے کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے دلہن کے ملبوسات اور زیورات کی قیمت کا تذکرہ کیا۔
یہ پڑھیں: سوشل میڈیا ناقدین نے ڈاکٹر نبیہا کو رُلا دیا
اس کے بعد سے ڈاکٹر نبیہا اور حارث کئی انٹرویوز دے چکے ہیں اور اب انہوں نے میزبان وصی شاہ سے گفتگو میں اپنی دل کی بات بیان کی۔
وصی شاہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نبیہا علی خان جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور روتے ہوئے بتایا کہ شادی کے فوراً بعد انہیں شدید ڈپریشن کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کے سب سے خوشگوار لمحات سوشل میڈیا کی بے لچک تنقید نے اُن کے لیے خوفناک خواب بنا دیے۔
ڈاکٹر نبیہا کا کہنا تھا کہ یہ میری زندگی کا بدترین وقت تھا، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اپنی شادی جیسے خوبصورت موقع پر مجھے ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس حد تک دباؤ بڑھ گیا تھا کہ ایک موقع پر انہوں نے حارث کھوکھر سے طلاق لینے کا بھی سوچا کیونکہ اُن کی ذہنی صحت سخت متاثر ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اُن کے اوپر ہونے والی تنقید نے اُن کی خوشیوں کو دکھ میں بدل دیا اور کچھ لوگوں نے اُن کے زندگی کے سب سے قیمتی لمحے کو اُن کے لیے سب سے بڑا پچھتاوہ بنا دیا۔ ڈاکٹر نبیہا نے بتایا کہ ان سب باتوں کا درد صرف وہی سمجھ سکتی ہیں جنہوں نے خود محسوس کیا۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کے لہنگے کی قیمت پر ڈاکٹر نبیہا کی وضاحت سامنے آگئی
ڈاکٹر نبیہا علی خان کی یہ جذباتی گفتگو سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا باعث بن رہی ہے جہاں بہت سے صارفین اُن کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی بلاوجہ تنقید انسانی ذہنی صحت پر سنگین اثرات ڈال سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر نبیہا علی خان سوشل میڈیا میڈیا پر انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔