ملیشیا میں 16 سال سے کم عمر افراد پر سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
ملیشیا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اگلے سال 2026 سے 16 سال سے کم عمر افراد کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے پر پابندی ہوگی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کمیونیکیشن منسٹر داتوک فہمی فاضل نے کہا ہے کہ 16 سال سے کم عمر افراد کو اگلے سال سے نئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے لیے تمام پلیٹ فارمز پر e-KYC سسٹم لاگو کیا جائے گا، یعنی رجسٹریشن کے دوران شناختی دستاویزات جیسے MyKad، پاسپورٹ یا ڈیجیٹل آئی ڈی کی بنیاد پر عمر کی تصدیق ہوگی۔
کابینہ یہ فیصلہ اس وجہ سے کرنے جارہی ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر کم عمر بچوں کے لیے نقصان دہ مواد، سائبر بُلِنگ اور دوسری خطرناک صورتِ حال بڑھ رہی ہیں۔
فہمی فاضل کے مطابق یہ اقدام آن لائن سیفٹی ایکٹ کے دائرے میں ہے جو 1 جنوری 2026 کو نافذ ہوگا۔ کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ پابندی “ضرورت مند قدم” ہے تاکہ بچوں کو آن لائن نقصان دہ اثرات سے بچایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سال سے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔