سیاسی پیشرفت کے باوجود مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال بدستور سنگین ہے، عاصم افتخار
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
یو این او میں پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے تین سو سے زائد فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں، یہ ایک کڑوی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے، زبانی طور پر اعلان کردہ امن نے زمینی سطح پر ابھی تک مکمل تحفظ اور استحکام فراہم نہیں کیا۔ جانیں اب بھی ضائع ہو رہی ہیں، گھر اب بھی مسمار ہو رہے ہیں اور خاندان اب بھی خوف کے سائے میں جی رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ اور مسئلہ فلسطین پر بریفنگ کے دوران اپنے بیان میں کہا کہ مقبوضہ فلسطین میں سیاسی پیشرفت کے باوجود صورتحال بدستور نہایت سنگین ہے اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ عاصم افتخار نے اپنی بریفنگ میں کہا کہ صدرِ محترم ہم نائب خصوصی کوآرڈی نیٹر برائے مشرق وسطیٰ امن عمل جناب رامیز الاکبروف کے جامع بریفنگ پر اُن کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو برسوں سے دنیا نے غزہ میں ایک تباہ کن جنگ کو کرب اور حیرت کے ساتھ دیکھا ہے، ایسی جنگ جس نے محصور، محاصرے میں جکڑے، بارہا بمباری کا شکار اور بھوک سے نڈھال فلسطینی عوام پر ناقابلِ بیان مصیبتیں ڈھا دی ہیں۔ 70 ہزار سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ تقریباً پورا سماجی و معاشی ڈھانچہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ جنگ بندی کے مطالبات کو مسلسل نظرانداز کیا گیا اور احتساب کی پکاروں کا جواب مکمل استثنیٰ کے ساتھ دیا گیا۔
پاکستان کے سفیر کا کہنا تھا کہ اس ہولناک منظرنامے کے بیچ اور اسرائیلی جارحیت کے لگاتار حملوں کے باوجود، دو اہم پیش رفتیں سامنے آئیں، پہلی یہ کہ فلسطینی مسئلے کے پرامن حل اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے جولائی میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس کے بعد 12 ستمبر کو نیویارک اعلامیہ منظور کیا گیا اور اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران 22 ستمبر کو اس کانفرنس کے دوبارہ آغاز کا فیصلہ کیا گیا۔ اس اعلامیے میں ایک آزاد ریاستِ فلسطین کے قیام کے لیے ٹھوس، وقت مقررہ اور ناقابلِ واپسی اقدامات اٹھانے کا عزم ظاہر کیا گیا، جو عالمی برادری کی بھرپور خواہش کا مظہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پھر دوسرا فیصلہ کن موڑ آیا، جو سیاسی روابط اور مسلسل سفارت کاری کا نتیجہ تھا، شرم الشیخ امن سربراہ اجلاس خطے اور عالمی شراکت دار ایک مشترکہ مقصد کے گرد جمع ہوئے، جنگ بندی کو برقرار رکھنا، انسانی تباہی کا ازالہ کرنا اور فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے ایک قابلِ اعتماد سیاسی راستے کی بنیاد رکھنا۔
عاصم افتخار نے کہا کہ اسی عمل نے گذشتہ ہفتے اس کونسل کی جانب سے قرارداد 2803 کی منظوری کی راہ ہموار کی۔ اور یہ سب کچھ 23 ستمبر کو 8 عرب اسلامی ممالک کے صدر ٹرمپ کے ساتھ اجلاس سے شروع ہوا۔ اس اہم گروپ کا حصہ ہونے کے ناطے پاکستان نے صدر ٹرمپ کی اس پہل اور ذاتی کاوشوں کا خیرمقدم کیا، نیز جنگ کے خاتمے، غزہ کی تعمیرِ نو، بے دخلی کی روک تھام، جامع امن کے فروغ اور مغربی کنارے کے الحاق کو روکنے سے متعلق تجاویز کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تمام عرصے میں پاکستان نے تعمیری کردار ادا کیا ہے، جو فلسطینی عوام اور ان کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کے لیے ہماری اصولی اور دیرینہ حمایت کا تسلسل ہے، لیکن اب بھی اسرائیلی فضائی حملوں میں شہریوں سمیت بچوں کے شہید اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مستقل مندوب نے کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے تین سو سے زائد فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں، یہ ایک کڑوی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے، زبانی طور پر اعلان کردہ امن نے زمینی سطح پر ابھی تک مکمل تحفظ اور استحکام فراہم نہیں کیا۔ جانیں اب بھی ضائع ہو رہی ہیں، گھر اب بھی مسمار ہو رہے ہیں اور خاندان اب بھی خوف کے سائے میں جی رہے ہیں۔ عاصم افتخار نے کہا کہ مغربی کنارہ بھی کسی لحاظ سے کم تباہ کن صورتحال کا شکار نہیں ہے۔ اسرائیلی آبادکاروں اور فوجی جارحیت میں بے مثال اضافہ ہوا ہے اور اکتوبر وہ مہینہ ثابت ہوا، جس میں 2006ء میں اقوامِ متحدہ کی نگرانی کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ آبادکارانہ حملے ریکارڈ کیے گئے۔ بندشوں، چھاپوں اور بڑھتے ہوئے خوف و ہراس کے ماحول میں پورے کے پورے دیہات بے گھر کر دیئے گئے ہیں، خصوصاً شمالی مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو اپنے گھروں کو لوٹنے کی اجازت دی جانی چاہیئے، اور کمیونٹی کو مستقل خوف کے بغیر معمول کے مطابق چلنے کے قابل ہونا چاہیئے۔
پاکستانی سفیر نے کا کہنا تھا کہ صدرِ محترم امن کی کوششوں میں حقیقی پیش رفت کیلیے چند اہم ترجیحات کو آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔ اول، قرارداد 2803 پر نیک نیتی کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے، تاکہ شرم الشیخ سربراہ اجلاس سے پیدا ہونے والی رفتار برقرار رہے، خصوصاً فلسطینیوں کی قیادت میں اور ان کی ملکیت میں حکمرانی، تعمیرِ نو اور ادارہ جاتی صلاحیت کو آگے بڑھایا جائے۔ فلسطینی اتھارٹی کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے؛ امن فلسطینی عوام کو نظرانداز کرکے نہیں بنایا جا سکتا۔ ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں قرارداد 2803 کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں مزید وضاحت سامنے آئے گی۔ عاصم افتخار نے کہا کہ میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امریکہ اور دیگر عرب-اسلامی ممالک کے ساتھ پاکستان نے اس عمل میں شمولیت اس لیے اختیار کی کہ یہ فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے ایک واضح راستہ فراہم کرتا ہے۔
دوم، جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور کسی بھی یکطرفہ اقدام کے لیے زیرو ٹالرنس برقرار رکھی جائے، تاکہ جنگ کا مستقل خاتمہ اور غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا ممکن ہوسکے۔ ہم غزہ بھر میں اسرائیلی قابض افواج کے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ سوم، انسانی امداد تک بلا تعطل رسائی کی ضمانت دی جائے۔ سردیوں کے قریب آتے ہی غزہ کی تھکی ہوئی، بے گھر اور شدید زخمی و صدمہ زدہ آبادی کو مکمل تحفظ اور بڑے پیمانے پر امداد کی ضرورت ہے۔ انسانی امداد میں رکاوٹ بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے اور اسے فوراً ختم ہونا چاہیے۔ چہارم، غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کا عمل بغیر کسی تاخیر کے شروع ہونا چاہیئے۔ پنجم، کسی بھی حالت میں نہ الحاق کیا جائے اور نہ ہی جبراً بے دخلی ہو۔ غزہ کی جغرافیائی وحدت اور اس کا مغربی کنارے کے ساتھ تسلسل ایک قابلِ عمل، خود مختار اور آزاد ریاستِ فلسطین کے لیے ناگزیر ہے۔
ششم، اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری کے پھیلاؤ کو اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی آبادیاتی یا قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو فوراً روکا جائے۔ اس میں الحرام الشریف کی تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ ہفتم، بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں پر احتساب یقینی بنایا جائے۔ کیونکہ انصاف کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ ہشتم، تشدد کے اس چکر کو توڑنے کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیلی قبضہ تمام عرب علاقوں سے ختم ہو، جن میں فلسطین، شام اور لبنان شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی اُفق ضروری ہے، ایک ایسا معتبر، وقت کا پابند سیاسی عمل، جو متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر مبنی ہو اور جس کا مقصد ایک خود مختار، آزاد اور جغرافیائی طور پر مربوط ریاستِ فلسطین کا قیام ہو، جو 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر قائم ہو اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔
دو ریاستی حل پر بین الاقوامی کانفرنس، اس کا نیویارک اعلامیہ اور امن منصوبہ ایک دوسرے کے تکمیلی ہیں اور انہیں ایک متحد، ہم آہنگ اور مشترکہ عمل کے ذریعے ان وعدوں کی تکمیل کو آگے بڑھانا چاہیئے، جن کا مقصد ایک مشترکہ اور حتمی ہدف بین الاقوامی قانونی جواز کے مطابق ریاستِ فلسطین کا قیام کو حقیقت بنانا ہے۔ پائیدار امن اور استحکام کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں یہ لازم ہے اور ہمیں اس کوشش میں کامیابی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جناب صدر، پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے۔ ناقابلِ تصور مصائب کے باوجود ان کی ثابت قدمی عالمی برادری کی طرف سے اسی درجے کے عزم اور یقین کی متقاضی ہے۔ پاکستان کے سفیر عاصم افختار نے کہا کہ یہ یقینی طور پر ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ اب کیے گئے وعدوں کو ٹھوس عملی اقدامات میں بدلنا ہوگا۔ پاکستان عزت، انصاف، حقِ خود ارادیت، اور ایک آزاد ریاست کے قیام کی جدوجہد میں فلسطین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عاصم افتخار نے کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی فلسطینی عوام پاکستان کے کے باوجود نے کہا کہ کے قیام کرتا ہے رہے ہیں کے ساتھ کیا گیا غزہ کی اب بھی کے بعد کے لیے اور اس ہے اور
پڑھیں:
امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی
بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔
بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔
اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔
وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔
فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔
سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔
بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔
4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)