شائقین کے لیے اپنی پسندیدہ کرکٹر کے ساتھ سیلفی بنانا ہمیشہ ایک یادگار لمحہ ہوتا ہے، اور حال ہی میں قومی کرکٹر نسیم شاہ نے بھی ایسا ہی لمحہ شیئر کیا۔
سہ ملکی سیریز کے ایک میچ کے بعد نسیم شاہ میدان میں موجود شائقین سے بات چیت کرنے اسٹینڈ کے قریب گئے، جہاں مداح ان سے تصاویر لینے لگے۔ اس دوران ایک مداح لڑکی نے ان کے ساتھ سیلفی لینے کی درخواست کی، جس پر نسیم شاہ نے معصومانہ انداز میں کہا،’’یار، گھر سے ڈانٹ پڑے گی، قسم سے سچ بتا رہا ہوں، میرے ابو بہت ڈانٹتے ہیں۔‘‘
نسیم شاہ کے اس سادہ اور مخلص جواب نے وہاں موجود تمام شائقین کو قہقہوں سے بھر دیا اور لمحے کو مزید یادگار بنا دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نسیم شاہ

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا