برطانیہ میں اسائلم کے لیے درخواستوں میں پاکستانی شہری سب سے آگے
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
لندن: برطانیہ میں سیاسی پناہ کے لیے جمع کرائی گئی درخواستوں میں پاکستانی شہری سب سے آگے نکل آئے ہیں۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں مجموعی طور پر 40 ہزار اسائلم درخواستیں جمع ہوئیں جن میں سے 11 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے جمع کرائیں۔
اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد 2022 کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان 175 ممالک میں سب سے زیادہ اسائلم درخواستیں دینے والا ملک بن گیا ہے۔
تمام پاکستانی درخواست دہندگان وزٹ، ورک اور اسٹوڈنٹ ویزے کے ذریعے قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہوئے تھے، جس کے بعد انہوں نے اسائلم کے لیے اپلائی کیا۔
برطانیہ کے شیڈو ہوم سیکرٹری کرس فلپ نے اس صورتحال کو ویزا سسٹم کی "مکمل ناکامی" قرار دیا اور کہا کہ ویزا اور بارڈر سسٹم کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔