راولپنڈی(ڈیلی  پاکستان آن لائن)سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کا کہنا ہے کہ اللّٰہ کو منظور ہوا تو مجھے عمرے پر جانے کی اجازت ملے گی۔

روزنامہ جنگ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ پنڈی بینچ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے میرے کیس میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ حکومت نے عدالت سے حکم امتناع حاصل کیا ہے، ہمارا کیس آئندہ منگل تک چلا گیا ہے۔ 
اس سے قبل ایف آئی اے اور پاسپورٹ امیگریشن حکام کے خلاف شیخ رشید احمد کی رٹ پٹیشن پر سماعت جسٹس صداقت علی خان نے کی۔

اوبر ڈرائیور نے بھارتی اداکارہ’’ یوگیتا راٹھور ‘‘ کا دل جیت لیا 

شیخ رشید اپنے وکیل سردار عبدالرزاق خان کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے۔

دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی اے اور پاسپورٹ امیگریشن حکام نے سنگل بینچ فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے، جسٹس رضا قریشی اور جسٹس جواد حسن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کر کے حکم امتناع جاری کیا۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ عدالت نے شیخ رشید کو عمرے پر جانے دینے کے احکامات دے دیے تھے۔ شیخ رشید نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر روکے جانے کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کی ہے۔

نسیم شاہ نے نوجوان لڑکی کی سیلفی لینے کی خواہش والد کی ڈانٹ سے ڈر کر مسترد کر دی 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی