اللّٰہ کو منظور ہوا تو مجھے عمرے پر جانے کی اجازت ملے گی: شیخ رشید
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کا کہنا ہے کہ اللّٰہ کو منظور ہوا تو مجھے عمرے پر جانے کی اجازت ملے گی۔
روزنامہ جنگ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ پنڈی بینچ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے میرے کیس میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے۔
شیخ رشید نے کہا کہ حکومت نے عدالت سے حکم امتناع حاصل کیا ہے، ہمارا کیس آئندہ منگل تک چلا گیا ہے۔
اس سے قبل ایف آئی اے اور پاسپورٹ امیگریشن حکام کے خلاف شیخ رشید احمد کی رٹ پٹیشن پر سماعت جسٹس صداقت علی خان نے کی۔
اوبر ڈرائیور نے بھارتی اداکارہ’’ یوگیتا راٹھور ‘‘ کا دل جیت لیا
شیخ رشید اپنے وکیل سردار عبدالرزاق خان کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے۔
دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی اے اور پاسپورٹ امیگریشن حکام نے سنگل بینچ فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے، جسٹس رضا قریشی اور جسٹس جواد حسن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کر کے حکم امتناع جاری کیا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ عدالت نے شیخ رشید کو عمرے پر جانے دینے کے احکامات دے دیے تھے۔ شیخ رشید نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر روکے جانے کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کی ہے۔
نسیم شاہ نے نوجوان لڑکی کی سیلفی لینے کی خواہش والد کی ڈانٹ سے ڈر کر مسترد کر دی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔