عالمی کوششوں کے باوجود اسرائیلی جارحیت جاری ہے، پاکستان کا سلامتی کونسل میں دوٹوک مؤقف
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال اور فلسطینی عوام کی بدستور جاری اذیت ناک حالت پر پاکستان نے ایک مرتبہ پھر نہایت واضح، دوٹوک اور اصولی مؤقف پیش کیا۔
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اپنے تفصیلی بیان میں دنیا کو یاد دلایا کہ مقبوضہ فلسطین میں سیاسی پیش رفت کی چند جھلکیاں دکھائی دینے کے باوجود زمینی حقیقتیں اب بھی شدید تباہی، مسلسل جارحیت اور انسانی جانوں کے زیاں کے گرد گھوم رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں پچھلے 2 برس کے دوران اسرائیلی قبضے نے جس بے رحمی کے ساتھ زندگی کے ہر شعبے کو کھنڈر بنا دیا ہے، وہ صرف ایک انسانی بحران نہیں بلکہ عالمی نظامِ انصاف کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے۔
سفیر پاکستان عاصم افتخار نے بتایا کہ 70 ہزار سے زائد فلسطینی، جن میں خواتین اور بچے بڑی تعداد میں شامل ہیں، اسرائیلی حملوں میں شہید ہوچکے ہیں۔ پورا معاشی و سماجی ڈھانچہ ملبے میں بدل چکا ہے جبکہ دنیا کی جانب سے بارہا کیے گئے جنگ بندی کے مطالبے مسلسل نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے اپنی بریفنگ میں دو اہم سفارتی پیش رفتوں کا ذکر کیا جو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سامنے آئیں۔ پہلی پیش رفت وہ اعلیٰ سطحی بین الاقوامی نشست تھی جس میں عالمی برادری نے دو ریاستی حل کے لیے ناقابلِ واپسی اقدامات اٹھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دوسری بڑی کامیابی شرم الشیخ امن سربراہ اجلاس تھی، جہاں خطے اور عالمی طاقتوں نے جنگ بندی کے استحکام، انسانی المیے کے ازالے اور ریاستِ فلسطین کے قیام کے قابلِ عمل راستے پر اتفاق کیا۔
انہوں نے کہا کہ انہی سفارتی کوششوں کا نتیجہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی صورت میں سامنے آیا، جس نے امن کے لیے ایک نیا سیاسی دروازہ کھولا، تاہم پاکستانی مندوب نے تشویش ظاہر کی کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی فورسز کے حملے مسلسل جاری ہیں اور 300 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ محض بیانات عملی تحفظ کا راستہ نہیں بن سکتے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مغربی کنارہ بھی شدید عدمِ تحفظ کا شکار ہے جہاں اسرائیلی آبادکاروں کی پرتشدد کارروائیاں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں اور متعدد فلسطینی دیہات جبری بے دخلی کا سامنا کررہے ہیں۔
عاصم افتخار نے امن عمل کے لیے بنیادی نکات پیش کیے جن میں قرارداد 2803 پر مخلصانہ عمل درآمد، مکمل جنگ بندی، انسانی امداد کی بلارکاوٹ رسائی، غزہ کی فوری تعمیرِ نو، جبری بے دخلی اور الحاق کی مکمل روک تھام، اسرائیلی آبادکاری کا خاتمہ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر شفاف احتساب شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک پائیدار سیاسی راستہ تب ہی ممکن ہے جب فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کا احترام کیا جائے اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق القدس شریف کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔
پاکستانی مندوب نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ یہ وقت فیصلہ کن ہے۔ اب وعدے نہیں، عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے اعلان کیا کہ وہ فلسطینی عوام کی جدوجہد، ان کے حقوق، اور ان کی آزادی کے لیے نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ اصولی بنیادوں پر ہمیشہ کھڑا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم کی بے مثال ثابت قدمی عالمی برادری سے اسی درجے کے عزم کی متقاضی ہے اور پاکستان ان کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی جاری رکھے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔