پشاور+ بنوں+ اسلام آباد (بیورو رپورٹ+ نامہ نگار+ خبر نگار خصوصی+خبر نگار+ آئی این پی) پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر فتنہ الخوارج کا حملہ ناکام بنادیا گیا۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 3 دہشت گرد مارے گئے۔ دہشتگردوں کے حملے میں ایف سی کے 3 اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 3 خودکش حملہ آوروں نے فیڈرل کانسٹیبلری پر حملہ کیا۔ ایک خودکش حملہ آور نے خود کو مرکزی گیٹ پر اڑایا۔ دو خودکش حملہ آور فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر کے اندر داخل ہوئے۔ فیڈرل کانسٹیبلری کے اہلکاروں نے دونوں حملہ آوروں پر فائرنگ کی۔ تینوں خودکش حملہ آور مارے گئے ہیں۔ سی سی پی او پشاور نے کہا کہ دہشتگردوں کے حملے کے باعث سنہری مسجد روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ڈپٹی کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری جاوید اقبال کے مطابق خودکش حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ فیڈرل کانسٹیبلری کے جوانوں نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ حملے کے بعد ریسکیو ٹیمیں اور پولیس کی بھاری موقع پر پہنچی۔ آئی جی خیبر پی کے پولیس ذوالفقار حمید نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک دھماکہ مین گیٹ پر اور دوسرا موٹر سائیکل سٹینڈ پر ہوا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 2 حملہ آور مارے جاچکے ہیں۔ ہسپتال حکام کے مطابق حملے میں 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 10 زخمیوں کو لایا گیا۔ ایک زخمی خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 9 اہلکار اور 7 شہری شامل ہیں تاہم زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ترجمان ریسکیو کے مطابق دھماکے کے 5 زخمیوں کو ایل آر ایچ منتقل کیا گیا۔ زخمیوں کی حالت تسلی بخش ہے۔ زخمیوں میں دو ایف سی اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ تاہم ڈی سی پشاور ثناء اللہ نے کہا کہ پشاور کے تمام ہسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب حملے کے بعد انتظامیہ نے سکیورٹی خدشات کے باعث بی آر ٹی سروس بند کر دی گئی۔ ادھر سی سی پی او نے بتایا کہ ایف سی جوان بالکل الرٹ تھے۔ اس لیے خودکش حملہ آوروں کو اندر داخل ہونے ہی نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ آور فیڈرل کانسٹیبلری کی بیرک میں جاکر لوگوں کو یرغمال بناسکتے تھے۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ صدر، کوہاٹ روڈ میں صبح تقریباً آٹھ بجے فتنہ الخوارج کے خوارجین نے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر حملے کی ناکام کوشش کی۔ خوارج نے فیڈرل کانسٹبلری ہیڈکوارٹرکے گیٹ پر خود کش دھماکہ کیا۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ خودکش دھماکے کے بعد دو خوارج نے ہیڈکوارٹر میں گھسنے کی  جن کو مار دیا گیا۔ تینوں حملہ آور جہنم واصل ہو چکے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں شواہد اکٹھے کر نا شروع کر دیئے ہیں۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب ہیڈکوارٹر میں پریڈ جاری تھی۔ پریڈ کے وقت 450 اہلکار موجود تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ 3 خود کش حملہ آور پیدل آئے۔ تمام دہشت گردوں نے خود کش بمبار جیکٹس پہن رکھی تھیں۔ دہشت گردوں کی عمریں 18 سے 22 سال کے درمیان تھیں۔ بتایا گیا کہ دہشت گرد منصوبہ بندی کے تحت آئے تھے، دہشت گردوں کا ٹارگٹ پریڈ تھی۔ تینوں افغان تھے۔ فائرنگ کی آواز رک گئی۔ فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوئے۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ ہلاک دہشتگردوں سے ہتھیار و گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ شہید ہونے والے ایف سی اہلکاروں میں حوالدار عالم زیب خان پلاٹون نمبر 277 شہید، سپاہی ریاست خان پلاٹون نمبر 478 شہید جبکہ سپاہی الطاف خان پلاٹون نمبر 277 شہید ہوگیا جبکہ زخمیوں میں سپاہی ارشد، لانس نائیک ظاہر، سپاہی ریاست خان، سپاہی عرفان خان، سپاہی عطاء اﷲ اور راہ گیر امجد ٹیلر ماسٹر شامل ہیں۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے بڑے نقصان سے بچا لیا۔ وطنِ عزیز سے بیرونی پشت پناہی میں سرگرم خوارج کی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ اپنے بیان میںصدرِ زرداری نے فتنہ الخوارج کے حملے کی شدید مذمت کرئے ہوئے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی۔ صدر نے کہا کہ دہشت گردوں کا حملہ وطنِ عزیز کے خلاف بیرونی پشت پناہی میں سرگرم خارجی دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔ وطن عزیز سے بیرونی پشت پناہی میں سرگرم خوارج کی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ اس موقع پر صدر مملکت نے سکیورٹی فورسز اور پولیس کی بروقت اور جرات مندانہ کارروائی کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد از جلد صحت یابی کی دعا کی۔انہوں نے ہدایت کی کہ واقعہ کے ذمہ داران کی جلد از جلد شناخت کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ پاکستان کی سالمیت پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت پاکستان ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ فیڈرل کانسٹیبلری کے جری جوانوں نے بہادری سے فتنہ الخوارج کے حملے کو ناکام بنایا۔ زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ خیبرپی کے سہیل آفریدی نے پشاور میں فرنٹیئر کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی سے واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کر لی اور زخمیوں کو فوری و بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ جوانوں نے بہادری سے بڑی تباہی سے بچا لیا۔ یہ حملہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ جو پاکستان کا امن خراب کریں گے وہ ہمارے اور پاکستان کے دشمن ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ پولیس اس دہشت گردی کا خاتمہ کرے گی۔ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا یہ حملہ انتہائی افسوسناک ہے، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، دہشت گردوں کا پہلے بھی یہی ارادہ تھا کہ خیبر پی کے اور پاکستان کا امن خراب کیا جائے اور اب بھی وہی ارادہ ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی پولیس کے لیے جدید آلات کا آرڈر دے چکی ہے لیکن بد قسمتی سے اس میں کچھ وقت لگ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلٹ پروف گاڑیاں آ چکی ہیں اور حکومت پولیس کی صلاحیتیں مزید بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔ میں اپنی پولیس کو جتنا جانتا ہوں وہ ہر قسم کی آفات کے لئے تیار ہیں، اور اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور انشاء اللہ وہ اس دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ مزید مضبوط عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔ قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ صوبائی حکومت پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے شہید اہلکاروں کے ایصال ثواب اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ گورنر خیبر پی کے فیصل کریم کنڈی نے اعلیٰ حکام سے ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی تفصیلات طلب کر لیں۔ اپنے بیان میں گورنر کنڈی نے ایف سی ہیڈکوارٹر پر فتنہ الخوارج کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ بیرونی پشت پناہی میں سرگرم خارجی دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔ دریں اثناء فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پشاور پرخودکش حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر میں ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں وزیراعلی خیبر پی کے‘ کور کمانڈر پشاور اور عسکری و سول حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء  نے شہداء کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ نماز جنازہ کے بعد شہداء کے جسد خاکی ان کے آبائی علاقے روانہ کر دیئے گئے جہاں شہداء کی تدفین مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی جو ملک کی سلامتی اور امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ نمازِ جنازہ کے اختتام پر ملکی سلامتی، امن اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ خودکش حملہ 8 بج کر 11 منٹ پر ہوا۔ جبکہ ایف سی ہیڈ کوارٹر کے اندر داخل ہونے والے حملہ آوروں کو مرکزی گیٹ کے 30 سے 40 میٹر کے اندر ہی مار دیا گیا۔ پولیس کی اس ابتدائی رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف سی ہیڈ کوارٹر میں اعلیٰ افسر بیٹھتے ہیں اور نفری بھی زیادہ ہوتی ہے۔ حملے کے وقت ایف سی ہیڈ کوارٹر میں پریڈ بھی ہو رہی تھی اورحملہ آوروں کا مقصد لوگوں کو یرغمال بنانا تھا۔ تاہم ایف سی ہیڈ کوارٹر کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک خودکش حملہ آور پیدل ایف سی ہیڈ کوارٹرکے گیٹ تک پہنچا۔ خودکش حملہ آور نے چادر اوڑھ رکھی تھی اور اس نے مرکزی گیٹ کے ناکے پر خود کو دھماکے سے اڑایا۔ مرکزی گیٹ پر خودکش دھماکہ کے نتیجے میں تین اہلکار موقع پر شہید ہو گئے۔ دھماکہ کے فوری بعد 2 مزید حملہ آور سائیڈ گیٹ سے ایف سی ہیڈ کوارٹر میں داخل ہوئے۔ دونوں خودکش حملہ آوروں کے پاس رائفلز اور ہینڈ گرنیڈز بھی تھے۔ خودکش حملہ آور اندر داخل ہونے کے بعد دائیں جانب موٹر سائیکل سٹینڈ پر پہنچے۔ خودکش حملہ آوروں نے فائرنگ کی اور جوابی فائرنگ میں مارے گئے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات اب تک کے شواہد کی بنیاد پر جاری کی گئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ خودکش دھماکہ اس وقت ہوا، جب ہیڈکوارٹر میں پریڈ جاری تھی اور پریڈ کے وقت 450 اہلکار موجود تھے۔ تمام دہشت گردوں نے خود کش جیکٹس پہن رکھی تھیں۔ دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت آئے تھے ا ور ان کا ٹارگٹ پریڈ تھا۔ ایف سی ہیڈ کوارٹر کو کلیئر کر دیا گیا۔ ادھر کاشو پل کے قریب سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ ہوا‘ سکیورٹی فورسز کی جوابی کاروائی کے بعد دہشتگرد فرار ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق علاقہ تھانہ ڈومیل میں واقع کاشو پل لنک روڈ کے قریب واقعہ پیش آیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک اہلکار زخمی ہوا۔ فائرنگ کے تبادلے کے بعد سکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا۔ماشکئی جنوبی وزیرستان ایر کے علاقے میں نصب بارودی مواد کا دھماکہ ہوا۔ ڈی پی او ارشد خان کے مطابق دھماکہ میں ایک بچہ جاں بحق ہوگیا، تحقیقات جاری ہیں۔صوابی میں تھانہ ٹوپی کی حدود میں پولیس اور دہشت گردوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ترجمان پولیس کے مطابق دو دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔ ان کے قبضے سے ہینڈ گرنیڈ‘ دو پستول‘ موٹر سائیکل برآمد کر لی گئی۔ دونوں دہشت گرد چوکی کلابٹ پر گرنیڈ حملے میں ملوث تھے۔ چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی نے بھی ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے کی مذمت کی ہے۔   

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بیرونی پشت پناہی میں سرگرم میں فیڈرل کانسٹیبلری کے کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ ایف سی ہیڈ کوارٹر خودکش حملہ ا وروں کوارٹر پر حملے کی فتنہ الخوارج کے خودکش حملہ ا ور ذرائع نے بتایا ہیڈ کوارٹر میں سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا سی ہیڈکوارٹر ہیڈکوارٹر پر دہشت گردی کا کش حملہ ا ور نے بتایا کہ خیبر پی کے مرکزی گیٹ پشاور میں زخمیوں کی زخمیوں کو کرتے ہوئے گیا ہے کہ نے کہا کہ گردوں کے کہ خودکش پولیس کی انہوں نے کے مطابق حملے میں کے حملے شہید ہو پر حملہ حملے کے دیا گیا گیٹ پر کے بعد کے لیے

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار