450جوانوں کی پریڈ کت دوران : پشاورا یف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ ناکام َ 3 افغان خودکش حملہ آور ہلاک 3اہلکار ، شہید 8شہریوں سمیت 11زخمی
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
پشاور+ بنوں+ اسلام آباد (بیورو رپورٹ+ نامہ نگار+ خبر نگار خصوصی+خبر نگار+ آئی این پی) پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر فتنہ الخوارج کا حملہ ناکام بنادیا گیا۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 3 دہشت گرد مارے گئے۔ دہشتگردوں کے حملے میں ایف سی کے 3 اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 3 خودکش حملہ آوروں نے فیڈرل کانسٹیبلری پر حملہ کیا۔ ایک خودکش حملہ آور نے خود کو مرکزی گیٹ پر اڑایا۔ دو خودکش حملہ آور فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر کے اندر داخل ہوئے۔ فیڈرل کانسٹیبلری کے اہلکاروں نے دونوں حملہ آوروں پر فائرنگ کی۔ تینوں خودکش حملہ آور مارے گئے ہیں۔ سی سی پی او پشاور نے کہا کہ دہشتگردوں کے حملے کے باعث سنہری مسجد روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ڈپٹی کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری جاوید اقبال کے مطابق خودکش حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ فیڈرل کانسٹیبلری کے جوانوں نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ حملے کے بعد ریسکیو ٹیمیں اور پولیس کی بھاری موقع پر پہنچی۔ آئی جی خیبر پی کے پولیس ذوالفقار حمید نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک دھماکہ مین گیٹ پر اور دوسرا موٹر سائیکل سٹینڈ پر ہوا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 2 حملہ آور مارے جاچکے ہیں۔ ہسپتال حکام کے مطابق حملے میں 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 10 زخمیوں کو لایا گیا۔ ایک زخمی خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 9 اہلکار اور 7 شہری شامل ہیں تاہم زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ترجمان ریسکیو کے مطابق دھماکے کے 5 زخمیوں کو ایل آر ایچ منتقل کیا گیا۔ زخمیوں کی حالت تسلی بخش ہے۔ زخمیوں میں دو ایف سی اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ تاہم ڈی سی پشاور ثناء اللہ نے کہا کہ پشاور کے تمام ہسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب حملے کے بعد انتظامیہ نے سکیورٹی خدشات کے باعث بی آر ٹی سروس بند کر دی گئی۔ ادھر سی سی پی او نے بتایا کہ ایف سی جوان بالکل الرٹ تھے۔ اس لیے خودکش حملہ آوروں کو اندر داخل ہونے ہی نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ آور فیڈرل کانسٹیبلری کی بیرک میں جاکر لوگوں کو یرغمال بناسکتے تھے۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ صدر، کوہاٹ روڈ میں صبح تقریباً آٹھ بجے فتنہ الخوارج کے خوارجین نے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر حملے کی ناکام کوشش کی۔ خوارج نے فیڈرل کانسٹبلری ہیڈکوارٹرکے گیٹ پر خود کش دھماکہ کیا۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ خودکش دھماکے کے بعد دو خوارج نے ہیڈکوارٹر میں گھسنے کی جن کو مار دیا گیا۔ تینوں حملہ آور جہنم واصل ہو چکے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں شواہد اکٹھے کر نا شروع کر دیئے ہیں۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب ہیڈکوارٹر میں پریڈ جاری تھی۔ پریڈ کے وقت 450 اہلکار موجود تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ 3 خود کش حملہ آور پیدل آئے۔ تمام دہشت گردوں نے خود کش بمبار جیکٹس پہن رکھی تھیں۔ دہشت گردوں کی عمریں 18 سے 22 سال کے درمیان تھیں۔ بتایا گیا کہ دہشت گرد منصوبہ بندی کے تحت آئے تھے، دہشت گردوں کا ٹارگٹ پریڈ تھی۔ تینوں افغان تھے۔ فائرنگ کی آواز رک گئی۔ فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوئے۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ ہلاک دہشتگردوں سے ہتھیار و گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ شہید ہونے والے ایف سی اہلکاروں میں حوالدار عالم زیب خان پلاٹون نمبر 277 شہید، سپاہی ریاست خان پلاٹون نمبر 478 شہید جبکہ سپاہی الطاف خان پلاٹون نمبر 277 شہید ہوگیا جبکہ زخمیوں میں سپاہی ارشد، لانس نائیک ظاہر، سپاہی ریاست خان، سپاہی عرفان خان، سپاہی عطاء اﷲ اور راہ گیر امجد ٹیلر ماسٹر شامل ہیں۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے بڑے نقصان سے بچا لیا۔ وطنِ عزیز سے بیرونی پشت پناہی میں سرگرم خوارج کی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ اپنے بیان میںصدرِ زرداری نے فتنہ الخوارج کے حملے کی شدید مذمت کرئے ہوئے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی۔ صدر نے کہا کہ دہشت گردوں کا حملہ وطنِ عزیز کے خلاف بیرونی پشت پناہی میں سرگرم خارجی دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔ وطن عزیز سے بیرونی پشت پناہی میں سرگرم خوارج کی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ اس موقع پر صدر مملکت نے سکیورٹی فورسز اور پولیس کی بروقت اور جرات مندانہ کارروائی کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد از جلد صحت یابی کی دعا کی۔انہوں نے ہدایت کی کہ واقعہ کے ذمہ داران کی جلد از جلد شناخت کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ پاکستان کی سالمیت پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت پاکستان ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ فیڈرل کانسٹیبلری کے جری جوانوں نے بہادری سے فتنہ الخوارج کے حملے کو ناکام بنایا۔ زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ خیبرپی کے سہیل آفریدی نے پشاور میں فرنٹیئر کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی سے واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کر لی اور زخمیوں کو فوری و بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ جوانوں نے بہادری سے بڑی تباہی سے بچا لیا۔ یہ حملہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ جو پاکستان کا امن خراب کریں گے وہ ہمارے اور پاکستان کے دشمن ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ پولیس اس دہشت گردی کا خاتمہ کرے گی۔ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا یہ حملہ انتہائی افسوسناک ہے، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، دہشت گردوں کا پہلے بھی یہی ارادہ تھا کہ خیبر پی کے اور پاکستان کا امن خراب کیا جائے اور اب بھی وہی ارادہ ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی پولیس کے لیے جدید آلات کا آرڈر دے چکی ہے لیکن بد قسمتی سے اس میں کچھ وقت لگ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلٹ پروف گاڑیاں آ چکی ہیں اور حکومت پولیس کی صلاحیتیں مزید بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔ میں اپنی پولیس کو جتنا جانتا ہوں وہ ہر قسم کی آفات کے لئے تیار ہیں، اور اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور انشاء اللہ وہ اس دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ مزید مضبوط عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔ قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ صوبائی حکومت پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے شہید اہلکاروں کے ایصال ثواب اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ گورنر خیبر پی کے فیصل کریم کنڈی نے اعلیٰ حکام سے ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی تفصیلات طلب کر لیں۔ اپنے بیان میں گورنر کنڈی نے ایف سی ہیڈکوارٹر پر فتنہ الخوارج کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ بیرونی پشت پناہی میں سرگرم خارجی دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔ دریں اثناء فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پشاور پرخودکش حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر میں ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں وزیراعلی خیبر پی کے‘ کور کمانڈر پشاور اور عسکری و سول حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے شہداء کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ نماز جنازہ کے بعد شہداء کے جسد خاکی ان کے آبائی علاقے روانہ کر دیئے گئے جہاں شہداء کی تدفین مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی جو ملک کی سلامتی اور امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ نمازِ جنازہ کے اختتام پر ملکی سلامتی، امن اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ خودکش حملہ 8 بج کر 11 منٹ پر ہوا۔ جبکہ ایف سی ہیڈ کوارٹر کے اندر داخل ہونے والے حملہ آوروں کو مرکزی گیٹ کے 30 سے 40 میٹر کے اندر ہی مار دیا گیا۔ پولیس کی اس ابتدائی رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف سی ہیڈ کوارٹر میں اعلیٰ افسر بیٹھتے ہیں اور نفری بھی زیادہ ہوتی ہے۔ حملے کے وقت ایف سی ہیڈ کوارٹر میں پریڈ بھی ہو رہی تھی اورحملہ آوروں کا مقصد لوگوں کو یرغمال بنانا تھا۔ تاہم ایف سی ہیڈ کوارٹر کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک خودکش حملہ آور پیدل ایف سی ہیڈ کوارٹرکے گیٹ تک پہنچا۔ خودکش حملہ آور نے چادر اوڑھ رکھی تھی اور اس نے مرکزی گیٹ کے ناکے پر خود کو دھماکے سے اڑایا۔ مرکزی گیٹ پر خودکش دھماکہ کے نتیجے میں تین اہلکار موقع پر شہید ہو گئے۔ دھماکہ کے فوری بعد 2 مزید حملہ آور سائیڈ گیٹ سے ایف سی ہیڈ کوارٹر میں داخل ہوئے۔ دونوں خودکش حملہ آوروں کے پاس رائفلز اور ہینڈ گرنیڈز بھی تھے۔ خودکش حملہ آور اندر داخل ہونے کے بعد دائیں جانب موٹر سائیکل سٹینڈ پر پہنچے۔ خودکش حملہ آوروں نے فائرنگ کی اور جوابی فائرنگ میں مارے گئے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات اب تک کے شواہد کی بنیاد پر جاری کی گئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ خودکش دھماکہ اس وقت ہوا، جب ہیڈکوارٹر میں پریڈ جاری تھی اور پریڈ کے وقت 450 اہلکار موجود تھے۔ تمام دہشت گردوں نے خود کش جیکٹس پہن رکھی تھیں۔ دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت آئے تھے ا ور ان کا ٹارگٹ پریڈ تھا۔ ایف سی ہیڈ کوارٹر کو کلیئر کر دیا گیا۔ ادھر کاشو پل کے قریب سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ ہوا‘ سکیورٹی فورسز کی جوابی کاروائی کے بعد دہشتگرد فرار ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق علاقہ تھانہ ڈومیل میں واقع کاشو پل لنک روڈ کے قریب واقعہ پیش آیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک اہلکار زخمی ہوا۔ فائرنگ کے تبادلے کے بعد سکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا۔ماشکئی جنوبی وزیرستان ایر کے علاقے میں نصب بارودی مواد کا دھماکہ ہوا۔ ڈی پی او ارشد خان کے مطابق دھماکہ میں ایک بچہ جاں بحق ہوگیا، تحقیقات جاری ہیں۔صوابی میں تھانہ ٹوپی کی حدود میں پولیس اور دہشت گردوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ترجمان پولیس کے مطابق دو دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔ ان کے قبضے سے ہینڈ گرنیڈ‘ دو پستول‘ موٹر سائیکل برآمد کر لی گئی۔ دونوں دہشت گرد چوکی کلابٹ پر گرنیڈ حملے میں ملوث تھے۔ چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی نے بھی ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے کی مذمت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بیرونی پشت پناہی میں سرگرم میں فیڈرل کانسٹیبلری کے کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ ایف سی ہیڈ کوارٹر خودکش حملہ ا وروں کوارٹر پر حملے کی فتنہ الخوارج کے خودکش حملہ ا ور ذرائع نے بتایا ہیڈ کوارٹر میں سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا سی ہیڈکوارٹر ہیڈکوارٹر پر دہشت گردی کا کش حملہ ا ور نے بتایا کہ خیبر پی کے مرکزی گیٹ پشاور میں زخمیوں کی زخمیوں کو کرتے ہوئے گیا ہے کہ نے کہا کہ گردوں کے کہ خودکش پولیس کی انہوں نے کے مطابق حملے میں کے حملے شہید ہو پر حملہ حملے کے دیا گیا گیٹ پر کے بعد کے لیے
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔