پشاور: ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ‘ 3 دہشت گرد ہلاک‘ 3 اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور/اسلام آباد(خبرایجنسیاں+نمائندہ جسارت) خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا، 3 خودکش حملہ آور ہلاک ہوئے جب کہ 3 ایف سی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ صبح 8 بج کر 10 منٹ پر ہوا، حملے کے بعد سنہری مسجد روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا اور ٹریفک کو صدر روڈ کی جانب موڑ دیا گیا۔سی سی پی او پشاور نے بتایا کہ 3 خودکش حملہ آوروں نے فیڈرل کانسٹیبلری پر حملہ کیا، ایک خودکش حملہ آور نے خود کو مرکزی گیٹ پر اڑایا جبکہ 2 خودکش حملہ آور فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر کے اندر داخل ہوئے۔میاں سعید کے بقول فیڈرل کانسٹیبلری کے اہلکاروں نے دونوں حملہ آوروں پر فائرنگ کی، تینوں خودکش حملہ آور مارے گئے ہیں، فیڈرل کانسٹیبلری کے جوانوں نے بہادری سے خودکش حملے کو ناکام بنایا۔ڈپٹی کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری جاوید اقبال نے بتایا کہ تینوں خودکش حملہ آور مارے گئے ہیں، فیڈرل کانسٹیبلری کے جوانوں نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، خودکش حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 اہلکار شہید ہوئے۔اسپتال ذرائع کے مطابق حملے میں 9 افراد زخمی ہوئے جنہیں لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، حملے میں 3 ایف سی اہلکار اور 6 شہری ہیں، تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی حالت تسلی بخش ہے۔فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر حملے کا ایک زخمی خیبرٹیچنگ اسپتال لایاگیا، دھماکے کے بعد خیبر ٹیچنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور اسٹاف کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ڈپٹی کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے کے بعد ٹرانس پشاور نے سیکورٹی خدشات کے باعث بی آر ٹی سروس عارضی معطل کر دی ہے، بی آر ٹی کی مرکزی راہداری پر بسوں کی سروس معطل کی گئی جب کہ فیڈر روٹس پر بس سروس معمول کے مطابق جاری ہے۔وزیراعظم شہبازشریف نے پشاورمیں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کی بدولت بڑے نقصان سے بچ گئے۔ وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد ازجلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ شہباز شریف کا کہنا تھا واقعے کے ذمے داران کی جلد ازجلد شناخت کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا پاکستان کی سا لمیت پرحملہ کرنے والے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کوخاک میں ملا دیں گے، حکومت پاکستان ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہے۔
پشاور: ایف سی ہیڈکوارٹر کے مرکزی دروازے پر خودکش دھماکے کے بعد سیکورٹی اہلکار چوکس کھڑے ہیں،چھوٹی تصاویر میں ایدھی اور الخدمت کے رضاکار امدادی سرگرمیوںمیں مصروف ہیں جبکہ ایک رضاکار خودکش حملہ آور کے جسم کے حصے جمع کررہاہے
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیڈرل کانسٹیبلری کے خودکش حملہ ا ور ہیڈ کوارٹر پر ایف سی کے بعد
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز