ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے میں شہید 3 اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے میں شہید ہونے والے 3 ایف سی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے۔
وزیرِعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے فیڈرل کانسٹیبلری میں شہداء کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے شہداء کی قربانیوں کو قوم کا سرمایہ قرار دیا اور شہداء کے لواحقین سے تعزیت کی۔
انہوں نے کہا کہ پہلے دھماکے میں ایف سی کے 3 جوان شہید ہوئے۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ صوبائی حکومت ہر قدم پر شہداء کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے، شہداء کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف ہمارا عزم مزید مضبوط کرتی ہیں۔
واضح رہے کہ آج صبح پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر فتنہ الخوارج کے حملہ کو ناکام بنادیا گیا۔
سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ دہشت گردوں کے حملے میں ایف سی کے 3 اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایف سی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔