پشاور میں دہشت گردوں نے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا، سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 3 خودکش حملہ آوروں نے فیڈرل کانسٹیبلری پر حملہ کیا، ایک خودکش حملہ آور نے خود کو مرکزی گیٹ پر اڑایا۔

ڈاکٹر میاں سعید نے کہا کہ دو خودکش حملہ آور فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر کے اندر داخل ہوئے، فیڈرل کانسٹیبلری کے اہلکاروں نے دونوں حملہ آوروں پر فائرنگ کی، تینوں خودکش حملہ آور مارے گئے ہیں۔

سی سی پی او پشاور نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کے حملے کے باعث سنہری مسجد روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

خودکش حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 اہلکار شہید

علاوہ ازیں ڈپٹی کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ خودکش حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 اہلکار شہید ہوئے۔ فیڈرل کانسٹیبلری کے جوانوں نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ حملے کے بعد ریسکیو ٹیمیں اور پولیس کی بھاری موقع پر پہنچ گئی جبکہ ہیڈکوارٹر میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں 2 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 5 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

حملے سے متعلق علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ ایف سی ہیڈ کوارٹر کی جانب سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔

فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر میں 2 خودکش دھماکے ہوئے: آئی جی

آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر میں 2 خودکش دھماکے ہوئے ہیں۔

جیو نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے آئی جی ذوالفقار حمید نے کہا کہ ایک دھماکا مین گیٹ پر اور دوسرا موٹر سائیکل اسٹینڈ پر ہوا، فائرنگ کے تبادلے میں 2 حملہ آور مارے جاچکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر فیڈرل کانسٹیبلری کے خودکش حملہ آور کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار