موٹرسائیکل سواردونوں افراد کیلئے ہیلمٹ لازمی قرار، ورنہ ای چلان ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک) موٹر سائیکل سواروں کے لئے نئی پابندی عائد کردی گئی، اگر موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھے افراد نے ہیلمٹ نہ پہنا تو ای چالان ہوگا۔تفصیلات کے مطابق موٹر سائیکل سواروں کیلئے ہیلمٹ کا استعمال محفوظ سفر کی ضمانت ہے، ہیلمٹ پہننے سے کسی بھی حادثے میں آپ کا سر اور آنکھیں محفوظ رہتی ہیں جبکہ دھول ، مٹی اور دھوپ سے بچاتا ہے۔
اب موٹر سائیکل سوار دونوں افراد کیلئے ہیلمٹ کا استعمال لازمی قرار دیا گیا۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ اگر موٹر سائیکل پر دو افراد بیٹھے ہیں تو صرف ڈرائیور ہی نہیں بلکہ دونوں افراد کو ہیلمٹ پہننا ہوگا، اگر پیچھے بیٹھے افراد نے ہیلمٹ نہ پہنا تو ای چالان ہوگا۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے آن لائن رائیڈرز کو کہا کہ وہ بھی اپنے ساتھ اضافی ہیلمٹ لازمی رکھیں ورنہ ان کا بھی چالان کر دیا جائے گا۔
انھوں نے خبردار کیا کہ یاد رکھیں چالان بھی پانچ سو نہیں پورے پانچ ہزار کا ہوگا۔
حکام نے شہریوں کو محفوظ سفر کی ہدایت کرتے ہوئے ہیلمٹ کے استعمال پر زور دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔