دبئی ایئر شو میں بھارتی ساختہ HAL Tejas لڑاکا طیارے کے حالیہ حادثے نے بھارت کے دفاعی برآمدات اور بین الاقوامی ساکھ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ عالمی تجزیہ نگاروں نے بھارت کی “Make in India” دفاعی برانڈنگ کی ساکھ پر سوال اٹھایا ہے، جبکہ پاکستان کے JF-17 لڑاکا طیارے کی battle-tested مارکیٹنگ اور ملٹی-فلیٹ اسٹریٹیجی کو زیادہ قابلِ اعتماد اور پرکشش قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی دوران علاقائی سیاسی حرکیات بھی سرگرم ہیں، جس میں پاکستان اور ایران کے تعلقات اور بھارت کی اندرونی و بیرونی پالیسیوں پر تنقید شامل ہے۔

پاکستان کی جانب سے بھارتی بیان کی مذمت

پاکستان نے بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے سندھ صوبے کے بارے میں بیانات کو ’خواب خرگوشی، تاریخی حقائق کی تبدیلی، اور ہندوتوا ذہنیت کی عکاسی‘ قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دبئی ایئرشو میں تیجاس طیارے کا حادثہ، ‘بھارتی طیاروں کی برآمدات کا امکان تقریباً ختم ہوگیا’

پاکستانی حکومت نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ صرف زبان کے بیانیے میں نہ الجھے بلکہ اپنی اندرونی اقلیتوں کی حفاظت پر توجہ دے۔

ایران کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان

ایران کے وزیر خارجہ علی لاریجانی نے پاکستان کے ساتھ تعاون اور ایران، اسرائیل/امریکا جنگ کے دوران دیے گئے مدد پر شکریہ ادا کیا اور اپنی حالیہ دورہ پاکستان کا اعلان کیا۔ اس دورے کو خطے میں مضبوط سفارتی تعلقات کے فروغ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دبئی حادثے کے پس منظر میں دفاعی مارکیٹ کا تجزیہ

دبئی ایئر شو میں تیجاس کے حادثے کے بعد 3 بڑے نکات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ سب سے پہلے، بھارتی single-engine پلیٹ فارم پر اعتماد ایک بڑے بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ دوسرا ’ Make in India ‘  دفاعی برانڈنگ کی چمک مدھم پڑتی نظر آ رہی ہے اور عالمی خریدار اسے reputation risk کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ تیسرا، پاکستان کے JF-17 لڑاکا طیارے کی battle-tested مارکیٹنگ اور چین کے J-10C سمیت دیگر پلیٹ فارمز کے ساتھ پاکستان کا ملٹی-فلیٹ فائدہ زیادہ قابلِ اعتماد اور پرکشش قرار پا رہا ہے، جیسا کہ عالمی اور علاقائی میڈیا خصوصاً Reuters اور The Express Tribune نے اپنی رپورٹنگ اور تجزیوں میں اشارہ کیا ہے۔

تیجاس انکوائری اور مستقبل کے اثرات

اگر انکوائری رپورٹ میں تیجاس میں کسی بنیادی design یا سسٹم فالٹ کی نشاندہی ہوتی ہے تو HAL کو وسیع اضافی ٹیسٹنگ، retrofit اور certification کے مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ اس کے نتیجے میں کمپنی کے اخراجات اور ڈیلیوری ٹائم لائن پر دباؤ بڑھے گا، شیئر ویلیو متاثر ہوگی، اور بیرونی منڈیوں میں جاری ایکسپورٹ نیگوشیئشنز تاخیر، دوبارہ evaluation یا ممکنہ منسوخی کا شکار ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:2 سال میں 2 کریش، تیجاس طیارے کی پروڈکشن ناقص کیوں؟

اس سے خطے میں ایسا خلا پیدا ہو گا جسے پاکستان اور دیگر متبادل سپلائرز اپنے فائٹر پلیٹ فارمز کے ذریعے بھرنے کی کوشش کریں گے۔

اثرات

دبئی ایئر شو میں تیجاس حادثہ نہ صرف بھارت کی دفاعی برآمدات کے لیے چیلنج بن گیا ہے بلکہ خطے میں فوجی اور سفارتی توازن پر بھی اثر ڈال رہا ہے۔ پاکستان کے JF-17 لڑاکا طیارے کی مضبوط مارکیٹنگ، ساتھ ہی چین کے J-10C اور دیگر پلیٹ فارمز کے ساتھ مل کر پاکستان کا ملٹی-فلیٹ فائدہ بھارت کے مقابلے میں زیادہ قابلِ اعتماد اور پرکشش دکھائی دے رہا ہے، جس سے خطے میں دفاعی مارکیٹ کی نئی سمتیں واضح ہو رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا