تیجاس کی تباہی، بھارت کی مجموعی دفاعی صلاحیتوں پر بھی سوال اٹھ گئے
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
دبئی ایئر شو کے دوران بھارتی فضائیہ کے مقامی طور پر تیار کردہ لڑاکا طیارے تیجاس کے گر کر تباہ ہونے پر اس کے ساختی نقائص کی واضح نشاندہی ہوتی ہے جس نے بھارت کے دفاعی سازوسامان پر سوالات کھڑے کردیے۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی ایئر شو کے دوران بھارتی جنگی طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ ہلاک
یاد رہے کہ دبئی ایئر شو کے 5ویں اور آخری روز تیجاس گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں پائلٹ بھی ہلاک ہوا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ طیارہ فضا میں توازن کھونے کے بعد زمین سے ٹکرا گیا اور آگ کے گولے میں تبدیل ہوگیا۔ واقعہ مقامی وقت کے مطابق 2 بج کر 10 منٹ پر پیش آیا۔
یہ متحدہ عرب امارات میں سنہ 1989 سے منعقد ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے فضائی میلے دبئی ایئر شو میں ہونے والا پہلا حادثہ ہے۔ اس طرح بھارتی فضائیہ نے اپنی نااہلی کے ذریعے اس عالیشان شو پر ایک بدنما داغ بھی لگا دیا ہے۔
فنی خرابی اور ساختی نقائص: ماہرین کیا کہتے ہیں؟ایرواسپیس و دفاعی امور پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق حادثے کے پیچھے فنی خرابی اور ساختی نقائص ہو سکتے ہیں۔ طیارے کی پرواز سے قبل کی تصویروں میں لیکیج، پینل مس الائنمنٹ، وائبریشن اور دیگر مسائل واضح تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تیجس کے ترقیاتی پروگرام میں بدلتی اسپیسفکیشنز، ٹیکنالوجی گیپ اور غیر واضح ڈیزائن کے باعث مسائل پیدا ہوتے رہے جبکہ طیارے کے تھرسٹ، اسمارٹ لوڈ اور حرارتی دباؤ کے مسائل بھی سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: دبئی ایئر شو : نااہل بھارتی فضائیہ نے دنیا کے سب سے بڑے فضائی ایونٹ کو بدنما داغ دے دیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ دیسی انجن کی ناکامی اور جی ای انجن کا ایئر فریم کے مطابق نہ ہونا بھی حادثے کے ممکنہ اسباب میں شامل ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی دفاعی ماہرین نے بھی واقعے پر تبصرہ کیا۔ ایئرمارشل (ر) عاصم سلیمان نے کہا کہ دبئی ایئر شو میں گرنے والے طیارے میں فنی خرابی کی اطلاعات تھیں اور اس طرح کے حادثے بھارت اور بھارتی فضائیہ کی ساکھ پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارتی لڑاکا طیارے کی زمین بوسی کے لمحات، پائلٹ کس کام میں ناکام رہا
نیشنل سیکیورٹی کے ماہر سید محمد علی کے میڈیا میں شائع ہونے والے تبصرے کے مطابق سامنے آنے والی ویڈیو میں پائلٹ کی مس ججمنٹ بھی دیکھی جا سکتی ہے تاہم بھارتی فضائیہ ٹیکنالوجی اور وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود مختلف موقعوں پر اس کے 100 سے زائد طیارے گر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ تیجاس کو پیش آنے والا یہ پہلا حادثہ نہیں بلکہ مارچ 2024 میں بھی ایک تیجاس طیارہ راجستھان کے جیسلمیر میں تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہوا تھا تاہم اب دبئی ایئر شو جیسے نامور عالمی شو میں بھی تیجاس اور بھارتی فضائیہ کی صلاحیتیوں کی قلعی کھل گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی لڑاکا طیارہ تیجاس تیجاس تیجاس بھارتی فضائیہ کی ناکامی تیجاس تباہی کی وجوہات تیجاس کے ساختی نقائص تیجاس متواتر فیل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی لڑاکا طیارہ تیجاس تیجاس تیجاس بھارتی فضائیہ کی ناکامی تیجاس کے ساختی نقائص دبئی ایئر شو ساختی نقائص گر کر تباہ کے مطابق
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔