کراچی میں ترقی کیلئے متعدد بڑے منصوبے تیز رفتاری سے جاری ہیں، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
ایک بیان میں سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت تعلیم کے شعبے میں بھی نمایاں اقدامات کر رہی ہے، موجودہ مالی سال میں 130 اسکیموں کے تحت 1,280 تعلیمی یونٹس کی تکمیل پر کام جاری ہے، جس پر تخمینہ لاگت 15.57 ارب روپے ہے اور 1.88 ارب روپے پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں شہری ترقی کے لیے متعدد بڑے منصوبے تیز رفتاری سے جاری ہیں۔ تفصیلات کے مطابق شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ شہر میں 9 بڑے منصوبے 7.
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت تعلیم کے شعبے میں بھی نمایاں اقدامات کر رہی ہے، موجودہ مالی سال میں 130 اسکیموں کے تحت 1,280 تعلیمی یونٹس کی تکمیل پر کام جاری ہے، جس پر تخمینہ لاگت 15.57 ارب روپے ہے اور 1.88 ارب روپے پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں، دوسری جانب سیلاب متاثرہ اسکولوں کی بحالی کے لیے 30 اضلاع میں 12.33 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جبکہ جاپان کے بین الاقوامی تعاون ادارہ جے آئی سی اے کے پروگرام کے تحت پانچ اضلاع میں 20 لڑکیوں کے اسکولوں کو پرائمری سے ایلیمنٹری سطح تک ترقی دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کیلئے ترقیاتی منصوبہ 2025-26ء کے لیے 756 اسکیموں پر مشتمل ہے، جس میں 713 جاری، 17 کئری فورورڈ اور 43 نئی اسکیمیں شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ارب روپے
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔