Islam Times:
2026-07-24@04:23:28 GMT

سربراہ کے الیکٹرک کو ہٹانے کی حکومتی کوشش پھر ناکام

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

سربراہ کے الیکٹرک کو ہٹانے کی حکومتی کوشش پھر ناکام

کمپنی کے ہیڈ آفس میں ہونے والے بورڈ اجلاس میں حکومتی اور نجی شعبے کے بورڈ ممبران کے درمیان شدید اختلافات کے باعث یہ کوشش پھر ناکام ہوگئی، بورڈ کے بیشتر ارکان اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے جس سے قرارداد آگے نہیں بڑھ سکی۔ اسلام ٹائمز۔ کے الیکٹرک کے بورڈ میں حکومتی نامزد ڈائریکٹر ایک بار پھر کمپنی کی قیادت میں تبدیلی کرانے میں ناکام رہے، کیونکہ دیگر ڈائریکٹرز نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا اور 10 دن میں ہونے والا دوسرا بورڈ اجلاس بھی بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوگیا۔ رپورٹ کے مطابق جمعرات کو کراچی میں کمپنی کے ہیڈ آفس میں ہونے والا تازہ اجلاس اسی ایجنڈے کے ساتھ بلایا گیا تھا جو اس ماہ کے آغاز میں پیش کیا گیا تھا، یعنی سی ای او مونس علوی کو عہدے سے ہٹانا۔ تاہم اجلاس میں حکومتی اور نجی شعبے کے بورڈ ممبران کے درمیان شدید اختلافات کے باعث یہ کوشش پھر ناکام ہوگئی، بورڈ کے بیشتر ارکان اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے جس سے قرارداد آگے نہیں بڑھ سکی۔ کمپنی ذرائع نے بتایا کہ 5 نومبر کے پچھلے اجلاس کے برعکس، جمعرات کا اجلاس تمام قانونی تقاضوں کے مطابق شروع ہوا اور کورم بھی مکمل تھا، 10 میں سے 9 ڈائریکٹرز موجود تھے، البتہ وفاقی سیکریٹری خزانہ نہیں آسکے، کارروائی ضابطے کے مطابق ریکارڈ بھی کی گئی۔ تاہم اجلاس صرف 6 منٹ جاری رہا، چونکہ ایجنڈا سی ای او کی برطرفی سے متعلق تھا، اس لیے مونس علوی نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

اجلاس شروع ہونے کے فوراً بعد 5 ڈائریکٹر ادیب احمد، مبشر ایچ شیخ، محمد کامران کمال، سعد امان اللہ خان اور شان اے عشری معذرت کرکے اجلاس سے رخصت ہوگئے۔ یوں کمرے میں حکومت کے نامزد کردہ صرف 2 ارکان سیکریٹری پاور اور اجلاس طلب کرنے والے ڈائریکٹر جاوید قریشی رہ گئے، بورڈ چیئرمین مارک جیرارڈ اسکیلٹن بھی عمارت میں موجود رہے۔ واک آؤٹ کے بعد اجلاس آگے بڑھانا ممکن نہ رہا اور سی ای او کو ہٹانے کی کوشش مسلسل دوسری بار ناکام ہوگئی۔ بعد ازاں کے الیکٹرک نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو ‘فنانشل نتائج کے علاوہ بورڈ میٹنگ’ کے عنوان سے اپنی رپورٹ ارسال کی۔ کمپنی کے بیان میں کہا گیا کہ 7 نومبر کی اطلاع کے تسلسل میں یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے جمعرات 13 نومبر 2025ء کو ہونے والے اجلاس میں کمپنی کے مالی نتائج کے علاوہ دیگر معاملات پر غور کیا، براہ کرم، اس بارے میں ایکسچینج کے ٹی آر ای سرٹیفکیٹ ہولڈرز کو آگاہ کردیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اجلاس میں کمپنی کے کے بورڈ

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری