سربراہ کے الیکٹرک کو ہٹانے کی حکومتی کوشش پھر ناکام
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
کمپنی کے ہیڈ آفس میں ہونے والے بورڈ اجلاس میں حکومتی اور نجی شعبے کے بورڈ ممبران کے درمیان شدید اختلافات کے باعث یہ کوشش پھر ناکام ہوگئی، بورڈ کے بیشتر ارکان اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے جس سے قرارداد آگے نہیں بڑھ سکی۔ اسلام ٹائمز۔ کے الیکٹرک کے بورڈ میں حکومتی نامزد ڈائریکٹر ایک بار پھر کمپنی کی قیادت میں تبدیلی کرانے میں ناکام رہے، کیونکہ دیگر ڈائریکٹرز نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا اور 10 دن میں ہونے والا دوسرا بورڈ اجلاس بھی بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوگیا۔ رپورٹ کے مطابق جمعرات کو کراچی میں کمپنی کے ہیڈ آفس میں ہونے والا تازہ اجلاس اسی ایجنڈے کے ساتھ بلایا گیا تھا جو اس ماہ کے آغاز میں پیش کیا گیا تھا، یعنی سی ای او مونس علوی کو عہدے سے ہٹانا۔ تاہم اجلاس میں حکومتی اور نجی شعبے کے بورڈ ممبران کے درمیان شدید اختلافات کے باعث یہ کوشش پھر ناکام ہوگئی، بورڈ کے بیشتر ارکان اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے جس سے قرارداد آگے نہیں بڑھ سکی۔ کمپنی ذرائع نے بتایا کہ 5 نومبر کے پچھلے اجلاس کے برعکس، جمعرات کا اجلاس تمام قانونی تقاضوں کے مطابق شروع ہوا اور کورم بھی مکمل تھا، 10 میں سے 9 ڈائریکٹرز موجود تھے، البتہ وفاقی سیکریٹری خزانہ نہیں آسکے، کارروائی ضابطے کے مطابق ریکارڈ بھی کی گئی۔ تاہم اجلاس صرف 6 منٹ جاری رہا، چونکہ ایجنڈا سی ای او کی برطرفی سے متعلق تھا، اس لیے مونس علوی نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
اجلاس شروع ہونے کے فوراً بعد 5 ڈائریکٹر ادیب احمد، مبشر ایچ شیخ، محمد کامران کمال، سعد امان اللہ خان اور شان اے عشری معذرت کرکے اجلاس سے رخصت ہوگئے۔ یوں کمرے میں حکومت کے نامزد کردہ صرف 2 ارکان سیکریٹری پاور اور اجلاس طلب کرنے والے ڈائریکٹر جاوید قریشی رہ گئے، بورڈ چیئرمین مارک جیرارڈ اسکیلٹن بھی عمارت میں موجود رہے۔ واک آؤٹ کے بعد اجلاس آگے بڑھانا ممکن نہ رہا اور سی ای او کو ہٹانے کی کوشش مسلسل دوسری بار ناکام ہوگئی۔ بعد ازاں کے الیکٹرک نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو ‘فنانشل نتائج کے علاوہ بورڈ میٹنگ’ کے عنوان سے اپنی رپورٹ ارسال کی۔ کمپنی کے بیان میں کہا گیا کہ 7 نومبر کی اطلاع کے تسلسل میں یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے جمعرات 13 نومبر 2025ء کو ہونے والے اجلاس میں کمپنی کے مالی نتائج کے علاوہ دیگر معاملات پر غور کیا، براہ کرم، اس بارے میں ایکسچینج کے ٹی آر ای سرٹیفکیٹ ہولڈرز کو آگاہ کردیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اجلاس میں کمپنی کے کے بورڈ
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔