اسرائیلی فوج نے 2023 میں حماس حملے روکنے میں ناکامی پر تین اعلیٰ افسران کو برطرف کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اچانک حملے کے دوران سامنے آنے والی سنگین ناکامیوں کی ذمہ داری طے کرتے ہوئے تین اعلیٰ جرنیلوں کو برطرف کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فوجی قیادت نے دو ہفتے قبل اس واقعے کی “نظامی تحقیقات” کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ حملے کے دوران دفاعی ردِعمل میں متعدد خلا موجود تھے۔
فوجی بیان کے مطابق برطرف کیے جانے والوں میں تین ڈویژنل کمانڈر شامل ہیں، جن میں سے ایک اُس وقت ملٹری انٹیلی جنس کی سربراہی کر رہا تھا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ افسران غزہ سے شروع ہونے والے حماس کے حملے کے ابتدائی مرحلے کو روکنے میں براہِ راست ناکامی کے ذمہ دار تھے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ فیصلہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب تینوں افسر پہلے ہی اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے چکے تھے، جن میں جنوبی کمان کے سابق سربراہ جنرل یارون فنکلمان کا نام بھی شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق کارروائی کا دائرہ مزید بڑھا دیا گیا ہے اور بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان سمیت چار دیگر جرنیلوں اور متعدد سینیئر افسران کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی منظوری دی گئی ہے۔
فوجی ادارے کے مطابق تحقیقات کا مقصد ناکامی کی وجوہات کا جامع جائزہ لینا اور مستقبل میں ایسی صورتحال کے لیے دفاعی نظام کو بہتر بنانا ہے۔
خیال رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل کے خلاف بے مثال کارروائی کرتے ہوئے ایک ہزار سے زائد راکٹ داغے تھے، سرحدی باڑ توڑ کر اسرائیلی علاقوں میں داخل ہوئے اور متعدد آبادیوں اور فوجی مراکز کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں ایک ہزار سے زائد اسرائیلی ہلاک ہوئے جبکہ سیکڑوں شہری اور فوجی یرغمال بنا کر غزہ منتقل کیے گئے۔
اسی حملے کو بنیاد بنا کر اسرائیل نے اگلے ہی روز غزہ پر شدید فضائی بمباری کا آغاز کیا، جو جلد ہی زمینی کارروائی میں تبدیل ہوگیا اور جس کے نتیجے میں علاقے میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔