سرکاری حج اسکیم 2026کی دوسری قسط جمع کرانے کی آخری مہلت میں 3روز کی توسیع
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
سرکاری حج اسکیم 2026کی دوسری قسط جمع کرانے کی آخری مہلت میں 3روز کی توسیع WhatsAppFacebookTwitter 0 17 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) سرکاری حج اسکیم 2026 کے تحت واجبات جمع کرانے کے عمل میں وزارتِ مذہبی امور نے اہم اعلان کر دیا ہے۔
ترجمان وزارت کے مطابق حج واجبات کی دوسری قسط جمع کرانے کی آخری تاریخ میں تین روز کی توسیع کر دی گئی ہے، جس کے بعد درخواست گزار 19 نومبر تک لازمی طور پر اپنے واجبات جمع کرا سکیں گے۔ترجمان نے واضح کیا کہ مقررہ تاریخ تک دوسری قسط جمع نہ کرانے کی صورت میں متعلقہ درخواست خود بخود منسوخ کر دی جائے گی اور ایسے امیدوار سرکاری حج اسکیم میں شامل نہیں رہیں گے۔
وزارت کے مطابق اس توسیع کا مقصد درخواست گزاروں کو سہولت فراہم کرنا اور یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی مستحق شخص مالی ادائیگی میں تاخیر کے باعث اسکیم سے باہر نہ ہو۔وزارت نے تمام درخواست گزاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بینکوں میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق جلد از جلد اپنی دوسری قسط جمع کرائیں تاکہ ان کے حج انتظامات مکمل طور پر محفوظ ہوسکیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعرفان صدیقی کی وفات کے باعث خالی ہونے والی سینیٹ نشست پر انتخاب کا شیڈول جاری عرفان صدیقی کی وفات کے باعث خالی ہونے والی سینیٹ نشست پر انتخاب کا شیڈول جاری سی ڈی اے نے مل پور کی آبادی کو غیر قانونی قرار دے کر خالی کرنے کا نوٹس جاری کر دیا وزیراعظم شہباز شریف نے شالیمار ایکسپریس کی اپ گریڈیشن کے بعد افتتاح کردیا سزائے موت کا حکم، بنگلادیش کا بھارت سے فوری طور پر شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس ، اسلام آباد کے اہم ترین منصوبوں پر ابتک ہونے والی پیشرفت کا جائزہ ہر چیز کا حساب لیا جائیگا، عدالتی فیصلے پر شیخ حسینہ واجد کا دھمکی آمیز ردعملCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سرکاری حج اسکیم کرانے کی
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔