حزب اللہ کے چیف آف اسٹاف کی نماز جنازہ؛ خوفزدہ اسرائیل کے ڈرون فضا میں چکر لگاتے رہے
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
حزب اللہ کے چیف آف اسٹاف حیثم علی طباطبائی کو شہید کرنے کے بعد بھی بزدل اور خوف زدہ اسرائیل چین کی نیند نہ سو سکا۔
عرب میڈیا کے مطابق بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے عسکری چیف آف اسٹاف حیثم علی طباطبائی کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔
اسرائیلیوں دھمکیوں اور ہائی الرٹ سیکورٹی کے باوجود نماز جنازہ میں عوام کا سیلاب اُمڈ آیا تھا جب کہ حزب اللہ کی اعلیٰ قیادت اور جنگجوؤں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
حیثم علی طباطبائی کے نماز جنازے سے خوف زدہ اسرائیلی فوج نے پورے علاقے کی نگرانی جاری رکھی اور دن بھر اسرائیلی ڈرونز نچلی پروازیں کرتے رہے۔
عدد من المسيرات المسلحة الواضحة تحلق فوق الضاحية الجنوبية تزامناً مع التشييع pic.
مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی فوٹیجز میں واضح طور پر اسرائیلی ڈرونز کو جنازے کے جلوس کے اوپر انتہائی کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے علاقے میں توپ خانے سے گولہ باری جاری رکھی جس میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
حزب اللہ کے حمایت یافتہ لبنانی اخبار الاخبار نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی گولہ باری کے نتیجے میں جنگلات اور کھیتوں میں آگ بھڑک اٹھیں۔
اسرائیلی فوج نے ابھی تک ان حملوں یا ڈرونز کی پرواز سے متعلق کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا تاہم صیہونی ریاست ایسی کارروائیوں کو دفاعی حق قرار دیتی آئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حزب اللہ کے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔