اسرائیل کا بیروت پر حملہ، حزب اللہ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف کو شہید کرنے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
BEIRUT:
اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات میں فضائی حملے میں حزب اللہ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کو شہید کردیا ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی فوج نے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت کے مضافات میں مہینوں بعد حملہ کیا گیا اور حزب اللہ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کو نشانہ بنایا گیا۔
حزب اللہ کی جانب سے فوری طور پر علی طباطبائی کی شہادت کی تصدیق نہیں کی گئی تاہم حزب اللہ کے سینئرعہدیدار محمود قماتی نے مرکزی کمانڈر کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کردی ہے۔
محمود قماتی نے حارت حریک مضافات میں بم باری سے نشانہ بنائی گئی عمارت کے قریب بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے حملے میں ریڈ لائن کراس کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کی قیادت فیصلہ کرے گی کہ کہاں اور کیسے اس کا جواب دیا جائے گا۔
لبنان کی وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیلی حملے میں 5 افراد شہید اور دیگر 28 زخمی ہوگئے ہیں اور نشانہ بننے والی کثیرالمنزلہ عمارت کا ملبہ مرکزی سڑک پر کھڑی کاروں پر گرا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حملے کے بعد شہری دوسرے حملے کے خوف سے متاثرہ عمارت سے باہر نکلے اور وہاں سے بھاگ نکلے۔
واضح رہے کہ علی طباطبائی پر امریکا نے 2016 میں پابندیاں عائد کی تھی اور انہیں حزب اللہ کا مرکزی رہنما قرار دیا تھا اور ان کی اطلاع دینے پر 5 ملین ڈالر کا انعام رکھا تھا۔
اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ علی طباطبائی حزب اللہ کے اہم یونٹس کے کمانڈر تھے اور حزب اللہ کو اسرائیل کے ساتھ جنگ کے لیے دوبارہ تیار کرنے کے لیے سخت محنت کی۔
اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کو اپنی طاقت بحال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور لبنان کی حکومت سے توقع ہے کہ وہ حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے کا وعدہ پورا کرے گی۔
دوسری جانب لبنان کے صدر جوزف عون نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی حملے روکنے کے لیے مداخلت کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علی طباطبائی حزب اللہ کے کہا کہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔