بنوں میں امن کمیٹی کے دفتر پر دہشت گردوں کا حملہ‘ 7 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنوں (مانیٹرنگ ڈیسک) بنوں کے علاقے ہوید میں دہشت گردوں کی جانب سے امن کمیٹی کے دفتر پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ دہشت گردوں نے امن کمیٹی کے دفتر پر رات گئے حملہ کیا، حملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ لاشوں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مسلح افراد نے حملے میں امن کمیٹی کے سربراہ قاری جلیل کے دفتر کو نشانہ بنایا، مقتولین میں دانش، کامران، ولی اللہ، سفیان، محمد نیاز، نعمان اور سفیان شامل ہیں۔ پولیس کی جانب سے واقعہ کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے امن کمیٹی کے دفتر پر فتنہ الخوارج کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی کی یہ بزدلانہ کارروائی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش ہے، ایسی بزدلانہ کارروائیاں عوام کے بلند حوصلے کو غیر متزلزل نہیں کر سکتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امن کمیٹی کے دفتر پر
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔