قانونی تقاضے پورے کرنے والے ہوٹلز ڈی سیل کردیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ڈپٹی کمشنرز نے شہر میں سیل کیے گئے روڈ سائیڈ چائے خانوں اور ہوٹل قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ڈی سیل کر دیے ہیں۔ کراچی انتظامیہ نے 27 اکتوبر کو فٹ پاتھوں اور سٹرکوں پر قائم چائے خانوں اور ہوٹلوں کے خلاف کارروائی کر کے سیل کرنے کے سلسلے کا آغاز کیا تھا مجموعی طور پر 255 روڈ سائیڈ ہوٹلز اور چائے خانے سیل کیے گئے تھے۔ کمشنر کراچی نے سیل کیے گئے ہوٹلز اور چائے خانوں کو روکنے اور ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کیلیے ایس او پی بنانے کا فیصلہ کیا تھا اور ایس او پی بنانے کے لئے ایڈ یشنل کمشنر غلام مہدی شاہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی جس میں ڈپٹی کمشنر شرقی ڈپٹی کمشنر وسطی اور ہوٹلز ایسوسی ایشن کے نمائندے شامل تھے۔ کمیٹی کو ایس او پیز تیار کرنے اور ہوٹلوں کو اپنی حدود میں رکھنے کا پابند بنانے کے لیے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔ کمیٹی نے باہمی مشاورت کے بعد تجاویز تیار کیں اور ان پر عملدرآمد کے لیے ہوٹلز ایسوسی ایشن سے تحریری یقین دہائی حاصل کی اور ہوٹلز مالکان سے عملدرآمد کے لیے حلف نامہ حاصل کیا۔ ایس او پی کے مطابق سڑکوں کو تین کٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک سو یا ایک سو فٹ سے زیادہ جگہ گھیرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایس او پی کے مطابق ہوٹل یا چائے خانے کو مطلوب جگہ کے تعین کا فیصلہ مختار کار اور ٹریفک پولیس کی تصدیق اور ٹاؤن افسر کی سفارش سے ہوگا۔ متعلقہ ڈی سی،اس کی این او سی جاری کرے گا۔ ڈی سیل کرنے کا فیصلہ ایس او پی پر ہوٹلز ایسوسی ایشن کی جانب سے عملدرآمد کی تحریری یقین دہانی اور ہوٹلوں کی جانب سے تحریری حلف نامہ جمع کرانے کے بعد کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس او پی
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔