Jasarat News:
2026-07-24@15:41:32 GMT

قانونی تقاضے پورے کرنے والے ہوٹلز ڈی سیل کردیے گئے

اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ڈپٹی کمشنرز نے شہر میں سیل کیے گئے روڈ سائیڈ چائے خانوں اور ہوٹل قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ڈی سیل کر دیے ہیں۔ کراچی انتظامیہ نے 27 اکتوبر کو فٹ پاتھوں اور سٹرکوں پر قائم چائے خانوں اور ہوٹلوں کے خلاف کارروائی کر کے سیل کرنے کے سلسلے کا آغاز کیا تھا مجموعی طور پر 255 روڈ سائیڈ ہوٹلز اور چائے خانے سیل کیے گئے تھے۔ کمشنر کراچی نے سیل کیے گئے ہوٹلز اور چائے خانوں کو روکنے اور ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کیلیے ایس او پی بنانے کا فیصلہ کیا تھا اور ایس او پی بنانے کے لئے ایڈ یشنل کمشنر غلام مہدی شاہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی جس میں ڈپٹی کمشنر شرقی ڈپٹی کمشنر وسطی اور ہوٹلز ایسوسی ایشن کے نمائندے شامل تھے۔ کمیٹی کو ایس او پیز تیار کرنے اور ہوٹلوں کو اپنی حدود میں رکھنے کا پابند بنانے کے لیے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔ کمیٹی نے باہمی مشاورت کے بعد تجاویز تیار کیں اور ان پر عملدرآمد کے لیے ہوٹلز ایسوسی ایشن سے تحریری یقین دہائی حاصل کی اور ہوٹلز مالکان سے عملدرآمد کے لیے حلف نامہ حاصل کیا۔ ایس او پی کے مطابق سڑکوں کو تین کٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک سو یا ایک سو فٹ سے زیادہ جگہ گھیرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایس او پی کے مطابق ہوٹل یا چائے خانے کو مطلوب جگہ کے تعین کا فیصلہ مختار کار اور ٹریفک پولیس کی تصدیق اور ٹاؤن افسر کی سفارش سے ہوگا۔ متعلقہ ڈی سی،اس کی این او سی جاری کرے گا۔ ڈی سیل کرنے کا فیصلہ ایس او پی پر ہوٹلز ایسوسی ایشن کی جانب سے عملدرآمد کی تحریری یقین دہانی اور ہوٹلوں کی جانب سے تحریری حلف نامہ جمع کرانے کے بعد کیا گیا ہے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایس او پی

پڑھیں:

شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایران 2023ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹانک میں پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، 12 فوجی، 2 پولیس اہلکار شہید، 12 دہشتگرد ہلاک کردیے گئے
  • مسلم لیگ ن کو موقع ملا تو میرپور اور پورے آزاد کشمیر کی تقدیر بدلیں گے : نواز شریف
  • غیر قانونی سگریٹ برآمد، 11 ٹرکوں سے 2 کروڑ 50 لاکھ سگریٹ ضبط
  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار