data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251122-03-6
باباالف
وزیراعظم اُسے کہتے ہیں جب ’’ہاں‘‘ کہے تو اس سے مراد ’’فوج کے شانہ بشانہ‘‘ ہونے کا اظہار ہو، جب ’’شاید‘‘ کہے تو اس کا مطلب ’’یقین جانیے‘‘ ہو اور جب ’’ناں‘‘ کہے تو اس کا مطلب ہے وہ وزیراعظم۔۔ شہباز شریف نہیں ہیں۔۔ وہ کئی زبانیں بول سکتے ہیں لیکن کسی بھی زبان میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ناں کہنے کی جرأت نہیں کرتے۔ تاہم کئی دن پہلے جب 27 ویں ترمیم کی آشفتگی میں انہوں نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے برخلاف تا حیات عدالتی استثنیٰ لینے سے انکار کیا تو ہمیں خواب سا لگا۔ کیا واقعی۔۔ اس نے آندھی کے سامنے جھک کر۔۔ صبر اور گہری بے اعتنائی کا اظہار کیا ہے۔۔ کیا واقعی۔۔ اس نے جنرل اور صدر کو گزرنے دیا ہے۔۔ اور پھر سے سوچ میں ڈوب گیا۔۔۔ اللہ کی شان ہے۔۔ وہ قادر مطلق ہے۔۔ سب کچھ کرسکتا ہے۔۔ شہباز شریف بھی دلیر ہوسکتے ہیں۔۔ آتش نمرود میں بے خطر اور تاحیات گرنے کا عزم کرسکتے ہیں۔ لگتا ہے فیض صاحب کروٹیں بدل رہے ہیں۔
جن کا دیں پیروی کِذب و ریا ہے ان کو
ہمتِ کفر ملے، جرأتِ تحقیق ملے
جِن کے سر منتظر تیغِ جفا ہیں اُن کو
دستِ قاتِل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے
استثنیٰ سے انکار کرکے وزیراعظم شہباز شریف نے جس ’’خود مختاری‘‘ کا اظہار کیا ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے کسی دیار فرنگ کے پیدائشی کو اپنے والد کا پتا لگ جائے۔ جنرلوں کے مقابل خود مختاری ہمارے اہل سیاست کی گم شدہ شناخت ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی خواب سے جاگ اٹھے اور کہے وزیراعظم کا حلقہ انتخاب اس کے عوام ہیں۔ وہی اس کا احتساب کرسکتے ہیں نہ کہ کوئی عدالت، کوئی قاتل، کوئی جج، کوئی دست جفا۔ کسی سیاست دان کا یہی وہ شیرہ اقتدار ہے جو اسے جنرلوں اور خود غرض سیاست دانوں سے ممتاز کرتا ہے۔ ثابت ہوا کہ سیاست دانوں میں اچھے کردار والے بھی ہوسکتے ہیں۔ پہلوان، طوائف اور سرکاری افسر سے الگ اور مختلف جسے بعداز پیشہ اپنا بڑھاپا خراب وخوار محسوس نہیں ہوتا۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ۔۔ لیکن۔۔ کیا واقعی یہ انکار اصولی ہے؟ یا پھر 27 ویں ترمیم کے موقع پر جنرلوں سے اپنے ازار بندی رشتے کا انکار کرکے، اپنی راہ الگ تراش کر طاقت کے کسی ممکنہ نئے توازن میں شہباز شریف نے عوام کی نظروں میں اپنی جگہ پکی کرنے کی کوئی چال چلی ہے؟؟ اگلے الیکشن میں عوامی منظر نامہ تبدیل ہونے کے باوجود بھی وہ منظر میں رہنا چاہتے ہوں۔
اقتدار کی ہر ضمانت دستیاب ہونے کے باوجود شہباز شریف اب بھی اپنی پیٹھ پر عمران خان کی آتشی جلن محسوس کرتے ہیں۔ عوام کی نظر میں عمران خان اب بھی ہارٹ بریکر اور ڈریم میکر ہیں۔ 27 ویں ترمیم کے ذریعے جس طرح جنرلوں کی گرفت مضبوط ہوئی ہے عوام اپنے خواب جنرلوں سے منسوب ہوتے دیکھ کر ابھی تو متذبذب ہیں لیکن کچھ پتا نہیں کب برسر احتجاج آجا ئیں۔ کب عمران خان کا جادو سر پر چڑھ کر ناچنے لگے۔ بھارت سے جنگ مئی میں پاک فوج نے جس پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے، جن رفعتوں سے ملک کو ہم کنار کیا ہے، مودی کو خاک چٹائی ہے، دنیا بھر سے خراج تحسین وصول کیا ہے، شجاعت و سرفروشی اور جاں بازی کی تاریخ رقم کی ہے، اس کی وجہ سے عوام کے دل فوج کے ساتھ ساتھ دھک دھک کررہے ہیں لیکن راج سنگھاسن کا کچھ اعتبار نہیں۔ ایک چھوٹی سی چنگاری کب بھڑک کر سب کچھ خا کستر کردے کچھ پتا نہیں۔ ایسے میں ایک نکی جئی ناں، استثنیٰ نہیں چاہیے کی لگام عوامی نفسیات کو تھامنے کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔ آخر عوام کے پاس جانے کا کوئی تو بہانہ ہو؟
پاکستان کی سیاست اور ریاست کی اور اس کے اداروں کی جو نئی صورت گری ہورہی ہے اس میں فوج پس منظر میں رہ کر ارمان پورے کرنا چاہتی ہے۔ وہ اداروں، بیانیوں اور سیاسی چہروں کے ذریعے اقتدار پر گرفت رکھ رہی ہے۔ اب ٹرپل اے بریگیڈ ایوان وزیراعظم کے گیٹ پر چڑھی نظر آنا چاہتی ہے اور نہ ایوان وزیراعظم کے اندر۔ وہ جمہوریت کے سارے خوابوں کو خود جمہوریت کے ذریعے شکست دینا چاہتی ہے۔ ایسا پاکستان میں نہیں دنیا میں اکثرو بیش تر ہورہا ہے۔ جمہوریت کی ناکامی سب جگہ عیاں ہے۔ جمہوریت اب حقیقت نہیں ایک وہم اور فینٹسی ہے۔ اس کی رفوگری نہیں، صفائی نہیں، صفایا ہورہا ہے۔ ایک نیا نظام اس کی جگہ لے رہا ہے۔ جس میں وزیراعظم کا عہدہ ایک ایسا سایہ ہے ہر فائل کے کونے پر جس کے نظر آنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ شہباز شریف استثنیٰ کی خودمختاری دکھا کر اسے اختیار کا مترادف ظاہر کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ طوائف بیوروکریٹ سے بہتر ہوتی ہے اور سیاست دان فوج سے وہ پرائم منسٹر ہائوس کی دیوار پر قدآدم یہی لکھوانا چاہتے ہیں۔
پہلے ہم شہباز شریف کو بحیثیت مقرر بہت ہلکا لیتے تھے۔ بحیثیت مقرر ان کی سب سے شاندار پر فارمنس وہ تھی جب انہوں نے ہاتھ نچا نچا کر زرداری صاحب کا پیٹ پھاڑنے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے آگے لگے مائیک ادھر اُدھر پھینک دیے تھے۔ اس وقت وہ فن مقرری کی ایسی فیکٹری تھے جسے جتنا جلد ضبط کرلیا جاتا شر۔ آفت کے عین مطابق ہوتا۔ بحیثیت سیاست دان ان کی شاندار پرفارمنس وہ تھی جب وہ عمران خان کی جیل میں تھے۔ عمران خان خود کو تا حیات وزیراعظم اور اپوزیشن کو تا حیات جیل کی چکی پیستے دیکھتے تھے۔ شہباز شریف نے اس وقت نہ صرف اپنے اندر کے سکوت اور سیاست کو رہنما بنایا، نوازشریف کے مشورے سے گریز کیا اور اندر ہی رہتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ سے وہ رشتے استوار کیے کہ آج وہ ایوان وزیراعظم کے اندر اور جیل سے باہر ہیں اور عمران خان جیل کے اندر اور ایوان وزیراعظم سے باہر۔
عمران خان ہوں، شہباز شریف ہوں، گرامی قدر جرنیل ہوں یا پھر گروہ مصنفین، سانسوں کی ہانپتی آندھیوں، زندگی کی کچلی وحشتوں کو ان کی ہاں پر یقین ہے اور نہ ناں پر۔ بے چہرہ سورما جیل کے اندر ہوں یا جیل کے باہر، جی ایچ کیو میں ہوں یا عدل کے ایوانوں میں سب تا حیات کیلے کے چھلکے پر پھسلنے کو انجوائے کرنا اور اس پر سے گرنے کو سجدہ برائے فلاح عوام باور کرانا چا ہتے ہیں۔
آہ یہ فانی دنیا
بھول جانے والے لوگ
ختم ہو جانے والی لذتیں
مٹ جانے والے نام
وقتی خوشیاں، عارضی مسرتیں
رک جانے والی سانسیں
اور پھر
کل نفس ذائقۃ الموت
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایوان وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار تا حیات کے اندر کیا ہے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔