مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ کی ایک بار پھر تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ کی ایک بار پھر تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت WhatsAppFacebookTwitter 0 23 November, 2025 سب نیوز
فیصل آباد (سب نیوز)وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے دنیا نے ہی نہیں بھارت نے بھی تسلیم کیا کہ پاکستان نے اسے منہ توڑ جواب دیا،بانی پی ٹی آئی سیاست نہیں کررہے،ایک آدمی جیل میں بیٹھ کر انارکی پھیلانے کی کوشش کرے تو ایسا نہیں ہوسکتا، سیاست میں ڈائیلاگ لازمی ہے، میں ساڑھے 6مہینے جیل میں رہا،میرے اہل خانہ اور 2وکلا کے سوا کوئی نہیں ملا۔
فیصل آباد میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا عوام مسلم لیگ ن کا ساتھ دیں گے، ضمنی انتخاب میں ٹرن آوٹ 25 سے 30 فیصد کے درمیان ہی ہوتا ہے۔عمران خان سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا بانی پی ٹی آئی سیاست نہیں کر رہے، انہوں نے سیاست کی ہی نہیں، بدقسمتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو لایا گیا۔ان کا کہنا تھا بانی پی ٹی آئی جب برسراقتدار تھے تو کہتے تھے کسی سے بات نہیں کروں گا، عمران خان کا سارا دھیان صرف ہم پر مقدمات بنانے میں تھا، لیکن ہم آج بھی سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھ مسائل حل کرنے کے حق میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پیشکش کی کہ آئیں میثاق پاکستان پر بات کریں، جمہوریت ڈائیلاگ سے آگے بڑھتی ہے لیکن انہوں نے ڈیڈلاگ کیا۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا پورے حلقے میں نہ کسی کو گرفتار کیا گیا نہ روکا گیا، کسی کو شکایت کا موقع نہیں ملا، حلقے میں الیکشن کے باعث مریم نواز سے ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کا اعلان رکوایا، ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کی پلاننگ ہو چکی ہے، ہم نے اور پی ٹی آئی نے جو کام کیے وہ عوام کے سامنے ہیں۔بھارت کے ساتھ مئی میں ہونے والی جھڑپ سے متعلق سوال پر وزیر اعظم کے مشیر کا کہنا تھا دنیا نے ہی نہیں بھارت نے بھی تسلیم کیا کہ پاکستان نے اسے منہ توڑ جواب دیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسابق ٹیسٹ کرکٹ سرفراز نواز کے اپنی سوانح عمری میں چونکا دینے والے انکشافات وفاقی آئینی عدالت نے دھاندلی کے الزامات کے معاملے پر پی ٹی آئی کی درخواست سماعت کےلیے مقرر کردی ہری پور سے پی ٹی آئی 29 کے 29 پولنگ سٹیشن جیتے گی: عمر ایوب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی روزہ رسولﷺ پر حاضری، ملک میں امن، ترقی کیلئے دعا بلاول بھٹو کو جدوجہد کر کے وزیر اعظم بنانا ہے: گورنر پنجاب اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کوئی بات زیر غور نہیں، وفاقی وزیر پاکستان کو ڈیجیٹل دنیا سے مزید جوڑنے کی جانب پیشرفت، عالمی سطح کی سب میرین کیبل کراچی پہنچ گئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: رانا ثنا اللہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔