الیکشن کمیشن کا نوٹس: رانا ثنا اللہ کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر طلب
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزام میں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ خان کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
ڈی آر او کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ خان کو آگاہ کیا گیا کہ انہوں نے پی پی 116 میں رانا شہریار کی ریلی میں شرکت کی اور خطاب کیا، جو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
نوٹس میں واضح طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ رانا ثنا اللہ کو کل ڈی آر او کے دفتر میں حاضری دینا ہوگی اور وہ تمام قانونی تقاضوں اور سوالات کے جوابات کے لیے پیش ہوں۔
دوسری جانب، ترجمان الیکشن کمشنر پنجاب نے بتایا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے بعد ضلعی مانیٹرنگ آفیسر فیصل آباد نے رانا ثنا اللہ اور رانا شہریار کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دونوں پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔
ترجمان کے مطابق رانا ثنا اللہ نے رانا شہریار کی انتخابی مہم میں حصہ لے کر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی، اور اگر جرمانہ کل تک ادا نہ کیا گیا تو کیس الیکشن کمیشن کو بھیج دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل این اے 96 فیصل آباد کے ضمنی الیکشن میں ضابطہ اخلاق کی مسلسل خلاف ورزی کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو بھی 24 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملات پر سخت رویہ اختیار کر رہا ہے اور انتخابی عمل کو شفاف رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے رانا ثنا اللہ الیکشن کمیشن
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔