برابری پارٹی کے سربراہ اور ماضی کے معروف گلوکار جواد احمد کا حالیہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ اگر ان کی حکومت قائم ہوئی تو پاکستان کے مزدوروں کی کم از کم تنخواہ 4 لاکھ روپے ہوگی۔

سوشل میڈیا صارفین نے اس بیان پر مختلف قسم کے تبصرے کیے اور بعض افراد نے اس کا مذاق بھی اڑایا۔ مقدس فاروق اعوان نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’جواد احمد کی حکومت آئی تو میں مزدور بننا پسند کروں گی‘۔

جواد احمد کی حکومت آئی تو میں مزدور بننا پسند کروں گی ???? https://t.

co/xUelhAPF18

— Muqadas Farooq Awan (@muqadasawann) November 19, 2025

نور نامی صارف نے طنزاً لکھا کہ جواد احمد زیادہ لمبی نہیں چھوڑ گئے۔

جواد احمد ۔۔۔زیادہ لمبی نہیں چھوڑ گئے ???? pic.twitter.com/Qu9nyenbPp

— Ñòòŕ (@MaahNoor_1) November 20, 2025

ایک صارف نے کہا کہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بھی سمجھ سے باہر ہے کہ انہوں نے اکنامکس کہاں سے سیکھی ہے۔ ان کا مزید سوال کیا کہ جو چیزیں موجودہ یا سابقہ حکومتوں کے لیے سمجھنا مشکل ہیں، وہ انہیں اچھی طرح معلوم ہیں؟

اسکا گراؤنڈ ریالٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے.
دوسرا اس بندے نے اکنامکس کہاں سے پڑھی ہے ؟
جو چیزیں موجودہ حکمران جماعت یا پچھلی حکومتوں کو سمجھ نہیں آ سکیں وہ اسکو پتہ ہیں؟
جواد صاحب کو تو آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک میں ہونا چاہئے.
یہاں تو 98% افسروں کی سیلری اتنی نہیں ہے
پاگل کہیں کا

— Nauman Khan (@RealNaumankhan) November 20, 2025

جواد احمد نے صارفین کی اس رائے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس بیان پر ہنس رہے ہیں، وہ کیوں چاہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر شریف، بھٹو زرداری خاندان، عمران خان اور شاہ محمود جیسے افراد پاکستان کے سرمایہ دارانہ نظام میں مہینوں میں کروڑوں اور اربوں روپے کماتے ہیں، تو ایک عام مڈل کلاس یا غریب مزدور کی تنخواہ چار لاکھ روپے ہونے میں کیا مسئلہ ہے۔ جواد احمد نے مزید کہا کہ کیا مزدور، کسان اور ان کے بچے انسان نہیں ہیں؟

جوجاہل لوگ اس بات پرہنس رہےہیں وہ کیوں چاہتےہیں کہ ایسانہ ہو؟اگرشریف،بھٹوزرداری خاندان،عمران خان،شاہ محمودوغیرہ پاکستان کےظالم سرمایہ داری نظام میں1مہینےمیں کروڑوں،اربوں روپےکماتےہیں توپھر1مڈل کلاس یاغریب مزدورکی تنخواہ4لاکھ ہونےمیں کیامسئلہ ہے؟کیامزدور،کسان اورانکےبچےانسان نہیں؟ pic.twitter.com/d6XNh3f6IS

— Jawad Ahmad (@jawadahmadone) November 18, 2025

واضح رہے کہ جواد احمد نے ماضی میں بھی بار بار دعویٰ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے حالات بدلنے کے لیے واحد اور آخری چانس ہیں۔

جواد احمد پاکستان کی شوبز انڈسٹری کا ایک مقبول نام ہیں اور ان کے گانے ماضی میں بڑے مقبول رہے۔ طویل عرصے تک گلوکاری کے بعد انہوں نے 2017 میں سیاست میں قدم رکھا اور اپنی سیاسی جماعت ’برابری پارٹی پاکستان‘ کی بنیاد رکھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلاول بھٹو پاکستانی سیاستدان جواد احمد حکومتی جماعتیں زرداری خاندان شریف فیملی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلاول بھٹو پاکستانی سیاستدان جواد احمد حکومتی جماعتیں شریف فیملی پاکستان کے جواد احمد انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف