مہنگی لیمبورگینی کا کنجوس مالک، ٹول ٹیکس بچانے کا انوکھا طریقہ ڈھونڈ لیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
بھارت میں ایک لیمبورگینی ڈرائیور کی غیر معمولی حرکت نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچادی، جب اس نے قیمتی سپر کار کو ٹول پلازہ کے بیریئر کے نیچے سے گزار کر ٹول ٹیکس دیے بغیر ہی فرار ہوجانے کی کوشش کی۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک عام گاڑی ٹول پر رکی ہوئی ہے، اور اس کے عقب میں موجود لیمبورگینی جیسے ہی بیریئر کے قریب پہنچتی ہے، ڈرائیور نہایت مہارت یا شرارت سے گاڑی کی کم اونچائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیریئر کے نیچے سے کار گزار دیتا ہے اور بغیر فیس ادا کیے آگے نکل جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس منظر نے بحث چھیڑ دی۔ کئی صارفین نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ مہنگی گاڑی رکھنا آسان ہے لیکن آداب خریدے نہیں جاسکتے۔ ایک صارف نے کہا ’’کار لاکھوں کی ہے، مگر ٹول ٹیکس دینے کا حوصلہ نہیں!‘‘
کسی نے اسے خوبصورت کار کی ’’توہین‘‘ قرار دیا، تو کئی لوگوں نے یہ بھی لکھا کہ دنیا کی تمام دولت بھی انسان کو حقیقی نفاست نہیں دے سکتی۔
ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے اور صارفین اس حرکت کو امیری کے غرور کے بجائے ’’سستی بدتمیزی‘‘ کی مثال قرار دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔