بھارت میں ایک لیمبورگینی ڈرائیور کی غیر معمولی حرکت نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچادی، جب اس نے قیمتی سپر کار کو ٹول پلازہ کے بیریئر کے نیچے سے گزار کر ٹول ٹیکس دیے بغیر ہی فرار ہوجانے کی کوشش کی۔

وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک عام گاڑی ٹول پر رکی ہوئی ہے، اور اس کے عقب میں موجود لیمبورگینی جیسے ہی بیریئر کے قریب پہنچتی ہے، ڈرائیور نہایت مہارت یا شرارت سے گاڑی کی کم اونچائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیریئر کے نیچے سے کار گزار دیتا ہے اور بغیر فیس ادا کیے آگے نکل جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس منظر نے بحث چھیڑ دی۔ کئی صارفین نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ مہنگی گاڑی رکھنا آسان ہے لیکن آداب خریدے نہیں جاسکتے۔ ایک صارف نے کہا ’’کار لاکھوں کی ہے، مگر ٹول ٹیکس دینے کا حوصلہ نہیں!‘‘

کسی نے اسے خوبصورت کار کی ’’توہین‘‘ قرار دیا، تو کئی لوگوں نے یہ بھی لکھا کہ دنیا کی تمام دولت بھی انسان کو حقیقی نفاست نہیں دے سکتی۔

ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے اور صارفین اس حرکت کو امیری کے غرور کے بجائے ’’سستی بدتمیزی‘‘ کی مثال قرار دے رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل