کراچی: سمندر میں ڈوب کر میڈیکل کے 3 طالبعلم جاں بحق، 3 کو بچا لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک: کراچی منوڑہ ہمالیہ کے مقام پر سمندر میں ڈوب کر تین طالبعلم جاں بحق ہوگئے جبکہ تین کو بچالیا گیا۔
کراچی میں منوڑہ ہمالیہ ساحل پر ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے فائنل ایئر کے طلبہ کی پکنگ سانحہ میں تبدیل ہو گئی، 6 طلبا سمندر میں ڈوب گئے، تین کو بچا لیا گیا، مستقبل کے 15 ڈاکٹروں کا ایک گروپ پکنک کے لئے منوڑہ کے ساحل گیا تھا، جہاں تند وتیز لہریں 6 طلبا کو بہا کر لے گئیں، ساحل پر موجود ریسکیو عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تین طلبا کی لاشیں نکال لیں۔
کیمیکل انجینئرنگ کے ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی انتقال کرگئے
جاں بحق ہونے والوں میں احمد کاشف، اشارب منیر اور اشہد شامل ہے جو میڈیکل کے فائنل ایئر کے طالب علم تھے، لاشیں جب گھر پہنچیں تو جوان میتیں دیکھ کر گھر اور محلے میں کہرام مچ گیا۔
ترجمان یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی پکنک ہاکس بے ساحل پر تھی، جس میں 150 طالبعلم شامل تھے، جبکہ حادثے کا شکار ہونے والے طلبہ (15 کے گروپ میں) ذاتی حیثیت میں منوڑہ تفریح کے لئے گئے تھے، مذکورہ 15 طلبا کی پکنک کے بارے میں کالج انتظامیہ یا پرنسپل ڈاؤ میڈیکل کو مطلع نہیں کیا تھا، ہاکس بے پر پکنک منانے والے طلبہ بخیریت واپس کالج پہنچ گئے جبکہ منوڑہ پر یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔
اسلام آباد دھماکے پر عالمی برادری کاپاکستان سے یکجہتی کا اظہار
پرنسپل ڈاؤ یونیورسٹی کا کہنا ہے ایک طالب علم لہر میں پھنس گیا باقی طلبا نے بچانے کی کوشش کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔