ساحل کے قریب امریکی بحریہ کی موجودگی: وینزویلا نے مقابلے کیلیے فوج تعیناتی شروع کردی
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وینزویلا نے منگل کے روز اپنے ساحل کے قریب امریکی بحری موجودگی کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر ملکی فوجی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے کریبیئن اور مشرقی پیسفک میں فوجی مہم چلائی جا رہی ہے، جس میں بحری اور فضائی افواج کو تعینات کیا گیا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کا مقصد منشیات کی اسمگلنگ کو روکنا ہے۔
لیکن اس آپریشن نے کراکس میں خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ہٹانا امریکا کا حتمی مقصد ہے۔
امریکی اعداد و شمار کے مطابق واشنگٹن کی افواج نے ستمبر کے اوائل سے بین الاقوامی پانیوں میں 20 جہازوں پر حملے کیے جن میں 76 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
تاہم، امریکا نے اب تک یہ ثبوت پیش نہیں کیا کہ یہ جہاز منشیات کی اسمگلنگ میں استعمال ہوئے یا ملک کے لیے خطرہ بنے۔
وینزویلا کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ وہ زمینی، بحری، فضائی، دریائی اور میزائل افواج کے ساتھ ساتھ سول ملیشیا کو بھی تعینات کرے گی۔
ریاستی ٹی وی نے مختلف ریاستوں میں فوجی رہنماؤں کے تقاریر کرتے ہوئے مناظر دکھائے، اس قسم کے اعلانات وینزویلا میں عام ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ یہ فوری طور پر زمینی فوجی تعیناتی میں بدل جائیں۔
گزشتہ ہفتے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے ساتھ جنگ کے امکان کو کم دکھایا، لیکن کہا تھا کہ مادورو کے دن گنے جا چکے ہیں۔
واشنگٹن نے منگل کو دنیا کے سب سے بڑے ایئر کرافٹ کیریئر کو لاطینی امریکا کے علاقے میں بھیجا، جس سے فوجی تعیناتی میں اضافہ ہوا ہے، جس پر وینزویلا نے خبردار کیا ہے کہ یہ مکمل جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔
ایک بیان میں، یو ایس نیول فورسز جنوبی کمانڈ نے کہا کہ یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ، جسے تقریباً 3 ہفتے قبل منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے تعینات کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ کمانڈ کے علاقے میں داخل ہو گیا ہے، جو کہ لاطینی امریکا اور کریبیئن کو شامل کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔