وینزویلا کی امریکی حملے کے خدشے کے پیش نظر افواج کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
وینزویلا نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے فوجی کارروائی کی گئی تو وہ زمینی، ہوائی اور بحری فورسز کے ساتھ ساتھ پولیس اور شہری اسکواڈز کو بھی وسیع پیمانے پر بارڈر پر تعینات کرے گا۔
وینزویلا کے دفاعی وزیر ولادیمیر پادرینو نے جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ یہ تیاری اِس وقت کی جا رہی ہے جب امریکی ایئرکرافٹ کیریئر کیریبین سمندر میں پہنچ کر تناؤ کو بڑھا رہا ہے اور وینزویلا کی حکومت اِسے امریکا کی جانب سے ممکنہ فوجی مداخلت کا اشارہ سمجھ قرار دے رہی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی بحریہ کی رِی اِنفورسڈ فورس میں سب سے بڑا طیارہ بردار جہاز بھی شامل ہے، امریکا نے اِسے حال ہی میں کیریبین سمندر میں تعینات کیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتی منشیات کی سمگلنگ روکنے اور ملک کی حفاظت کے لیے ہے جبکہ وینزویلا حکومت نے اس اقدام کو نوآبادیاتی عزائم کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔