سپیکر پنجاب اسمبلی نے مزید ججز کے استعفوں کا عندیہ دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
لاہور:(نیوزڈیسک) پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک احمد خان نے کہا ہے کہ ابھی کچھ استعفے مزید بھی آئیں گے، اور یہ کھینچا تانی چیف جسٹس بننے کے لیے ہو رہی ہے۔
لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں کے ذریعے پارلیمنٹ کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے پارلیمنٹ اکثر اپنے حقوق کے لیے بات کرتے ہوئے بھی محتاط رہتی تھی، لیکن اب یہ صورتحال تبدیل ہونی چاہیے۔
اُنہوں نے نوجوانوں اور خواتین کی تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو آج پڑھے لکھے نوجوانوں کی ضرورت ہے اور تعلیم یافتہ خواتین معاشرے کی بنیاد ہیں، بدلتے ہوئے دور میں بچیوں کی تعلیم کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے اور پرانے فرسودہ نظریات کو دفن کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
ملک احمد خان نے کہا کہ بچیوں کو خود اپنے روشن مستقبل کی ضمانت دینے کے قابل بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور سرکاری سکولوں میں بھی نجی تعلیمی اداروں جیسی سہولتیں فراہم کی جانی چاہئیں۔
سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ حکومت سے سوال ہے کہ سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے ملک کے 97 فیصد بچوں کو کیوں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ملک اس وقت متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے اور اس لیے آئینی عدالت کا قیام ناگزیر ہے، پارلیمنٹ کو اپنے اختیارات کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کا حق ہونا چاہیے۔
آخر میں اُن کا مزید کہنا تھا کہ عسکری اور حکومتی ذمہ داروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو منہ توڑ جواب دینے میں بہادری اور تدبر کا مظاہرہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 2 ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 27ویں ترمیم کو آئین پر حملہ قرار دیتے ہوئے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے جب کہ لا اینڈ جسٹس کمیشن کے رکن مخدوم علی خان بھی یہی مؤقف اختیار کرتے ہوئے مستعفی ہو گئے ہیں، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے سیاسی مقاصد تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔