کراچی کسٹمز، 2 کروڑ مالیتی چائینہ نمک اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کلکٹوریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ کراچی نے 20 ہزار کلو چینی نمک (Monosodium Glutamate) کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی، جسے غلط بیانی کرتے ہوئے سٹریک ایسڈ ظاہر کیا گیا تھا۔مزید بتایا کہ یہ مال ولیکا چورنگی کے ایک گودام میں چھپایا گیا تھا، کارروائی کے دوران دو کروڑ پانچ لاکھ روپے مالیت کا سامان ضبط کر لیا گیا۔
ایف بی آر اعلامیے کے مطابق مصدقہ خفیہ معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن نے نجی کمپنی کے شیڈ نمبر 9 پر چھاپہ مارا، جہاں سٹریک ایسڈ کے لیبل والے متعدد بیگ برآمد ہوئے۔
ابتدائی جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ بڑی تعداد میں بیگوں میں چینی نمک موجود تھا جس کی شناخت اس کی مخصوص خوشبو اور ذائقے سے ہوئی جبکہ کچھ بیگوں میں اصل سٹریک ایسڈ بھی موجود تھا۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ موقع پر موجود نگران نے گڈز ڈیکلریشن نمبر پیش کیا، جس میں پوری کھیپ کو ایران سے درآمد شدہ سٹریک ایسڈ ظاہر کیا گیا تھا، تفصیلی جانچ پڑتال کے دوران 25 کلو والے 800 بیگ چینی نمک اور 100 بیگ اصل سٹریک ایسڈ برآمد ہوئے اور گڈز ڈیکلریشن غلط ثابت ہوا۔
ایف بی آر کے مطابق ضبط شدہ سامان گودام منتقل کرکے اس کے نمونے تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں اور کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سٹریک ایسڈ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔