سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت پر آمادہ ہیں:رانا ثناء اللّٰہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور اور ن لیگ کے رہنما رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ حکومت آج بھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر مسائل کے حل کے لیے بات چیت پر آمادہ ہے۔
فیصل آباد میں ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخاب کے دوران ووٹنگ کا عمل پُرامن طریقے سے جاری ہے، حلقے میں کسی مخالف امیدوار یا کارکن کو نہیں روکا گیا اور نہ ہی کسی کو شکایت کا موقع ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخاب میں ٹرن آؤٹ عموماً 25 سے 30 فیصد کے درمیان ہوتا ہے، پورے حلقے میں نہ کوئی گرفتاری عمل میں آئی اور نہ ہی کسی قسم کی رکاوٹ ڈالی گئی، عوام ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دیں گے۔
بانی پی ٹی آئی سے متعلق بات کرتے ہوئے رانا ثناءاللّٰہ نے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ انہیں سیاست کرنے کے لیے لایا گیا، وہ سیاست دان نہیں تھے اور نہ ہی کبھی انہوں نے حقیقی سیاست کی، ان کے دورِ اقتدار میں صرف مخالفین پر مقدمات بنانے پر توجہ دی گئی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ سیاسی بنیاد پر کسی جماعت پر پابندی کی قانون آئین و اجازت نہیں دیتا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے میثاقِ پاکستان پر مذاکرات کی دعوت بھی دی ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے دور میں کسی سے بھی بات کرنے سے انکار کر دیا تھا، جمہوریت مکالمے سے آگے بڑھتی ہے لیکن انہوں نے ڈیڈ لاک پیدا کیا۔
رانا ثناءاللّٰہ نے مزید بتایا کہ دنیا نے ہی نہیں بھارت نے بھی تسلیم کیا کہ پاکستان نے اسے منہ توڑ جواب دیا، حلقے میں ضمنی انتخاب کے باعث وزیراعظم مریم نواز کو ترقیاتی منصوبوں کے اعلان سے روک دیا گیا تھا، تاہم ان منصوبوں کی پلاننگ مکمل کی جاچکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رانا ثناء الل انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ