راشد لطیف نے متنازع بیانات پر غیرمشروط معافی مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے اپنے سوشل میڈیا پر اور انٹرویوز میں دیے گئے متنازع بیانات پر غیرمشروط معافی مانگ لی ہے۔
راشد لطیف نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو بیان انہوں نے محمد رضوان کی فلسطین کی حمایت کو کپتانی سے ہٹانے سے جوڑا تھا، وہ بلاجواز اور غیر مناسب تھا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ بیان کسی ٹھوس ثبوت پر مبنی نہیں تھا اور یہ غلط تھا۔
سابق کپتان نے مزید کہا کہ ملک کی عزت اور ساکھ سب سے مقدم ہے، اور ایسے غیر ذمہ دارانہ تبصرے کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ وہ اپنے بیانات میں ذمہ دارانہ اور شواہد پر مبنی رویہ اپنائیں گے۔
راشد لطیف نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ان کا کسی کو نقصان پہنچانے کا کبھی ارادہ نہیں تھا، اور وہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)، عوام اور متعلقہ شخصیات سے غیر مشروط معذرت کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: راشد لطیف نے کہا کہ
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔