راشد لطیف نے متنازع بیانات پر غیرمشروط معافی مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے اپنے سوشل میڈیا پر اور انٹرویوز میں دیے گئے متنازع بیانات پر غیرمشروط معافی مانگ لی ہے۔
راشد لطیف نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو بیان انہوں نے محمد رضوان کی فلسطین کی حمایت کو کپتانی سے ہٹانے سے جوڑا تھا، وہ بلاجواز اور غیر مناسب تھا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ بیان کسی ٹھوس ثبوت پر مبنی نہیں تھا اور یہ غلط تھا۔
سابق کپتان نے مزید کہا کہ ملک کی عزت اور ساکھ سب سے مقدم ہے، اور ایسے غیر ذمہ دارانہ تبصرے کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ وہ اپنے بیانات میں ذمہ دارانہ اور شواہد پر مبنی رویہ اپنائیں گے۔
راشد لطیف نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ان کا کسی کو نقصان پہنچانے کا کبھی ارادہ نہیں تھا، اور وہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)، عوام اور متعلقہ شخصیات سے غیر مشروط معذرت کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: راشد لطیف نے کہا کہ
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔