نیپال (ویب ڈیسک)معروف گلوکار و ریپر طلحہٰ انجم نے نیپال میں کنسرٹ کے دوران بھارتی پرچم لہرانے پر معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے پوری پرفارمنس کے دوران پرچم نہیں لہرایا تھا۔

چند دن قبل طلحہٰ انجم کی نیپال میں کیے گئے کنسرٹ کے دوران بھارتی پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔

طلحہٰ انجم نے خود پر تنقید کے بعد ایکس پوسٹس میں اپنے عمل کا دفاع بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے بھارتی پرچم لہرانے سے تنازع کھڑا ہوا ہے تو وہ یہ عمل دوبارہ بھی دہرائیں گے۔

لیکن اب انہوں نے اپنے عمل پر معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے پوری کنسرٹ کے دوران بھارتی پرچم نہیں لہرایا تھا۔

طلحہٰ انجم نے 365 نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے عمل سے کسی کو تکلیف پہنچی ہے تو وہ معذرت خواہ ہیں لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ انہوں نے پوری پرفارمنس کے دوران بھارتی پرچم لہرایا تھا۔

ان کے مطابق کنسرٹ میں 3 ہزار افراد موجود تھے، جس میں درجنوں بھارتی مداح بھی تھے لیکن ان کے لیے سب مداح ایک جیسے ہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پرفارمنس کے دوران بعض مداحوں نے انہیں ٹی شرٹس، کچھ مداحوں نے دوسری چیزیں بھی اسٹیج پر پھینکیں جب کہ کسی مداح نے انہیں بھارتی پرچم تھمادیا۔

گلوکار کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے بھارتی پرچم نہیں پہنچانا بلکہ انہوں نے مداح کا احترام کرتے ہوئے ان سے پرچم لیا اور کچھ دیر کے بعد واپس رکھ دیا۔

طلحہ انجم کا کا کہنا تھا کہ وہاں صرف ایک بھارتی مداح نہیں تھا، وہاں درجنوں بھارتی مداح تھے، وہ مداح کی جانب سے دیا گیا پرچم لے کر پھینک نہیں سکتے تھے۔

نادیہ خان نے ان سے سوال کیا کہ انہوں نے کوئی دوائی وغیرہ تو نہیں پی رکھی تھی، جس وجہ سے وہ ہوش میں نہ رہے ہوں اور انہیں معلوم نہ چل سکا ہو کہ ان کے پاس بھارتی پرچم ہے۔

اس پر گلوکار نے کہا کہ وہ بالکل ہوش و حواس میں تھے، انہوں نے کچھ دیر تک بھارتی پرچم کو اپنے کندھے پر رکھا اور پھر لپیٹ کر اسٹیج پر رکھ دیا لیکن سوشل میڈیا پر ان کی مختصر کلپ وائرل ہوئی، جس وجہ سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کچھ ہی دیر میں بھارتی پرچم واپس رکھ لیا تھا اور انہوں نے دیر تک پرچم کو نہیں لہرایا تھا۔

طلحہٰ انجم نے بھارتی پرچم لہرانے اور اپنے عمل سے پاکستانی شائقین کا دل دکھنے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے قوم سے معافی بھی مانگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے دوران بھارتی پرچم بھارتی پرچم لہرانے ہے کہ انہوں نے لہرایا تھا

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ