پاکستانی ریپر طلحہ انجم نے نیپال میں پرفارمنس کے دوران بھارتی پرچم تھامنے کے واقعے پر آخرکار خاموشی توڑتے ہوئے معافی مانگ لی۔ انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اس لمحے کا اثر کیا بنا۔

یہ بھی پڑھیں:’طلحہ انجم کو گرفتار کیا جائے‘ کانسرٹ کے دوران بھارتی پرچم لہرانے پر پاکستانی گلوکار تنقید کی زد میں

میڈیا رپورٹ کے مطابق طلحہ انجم ایک نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں شریک تھے، جہاں میزبانوں نے ان سے وائرل ویڈیو کے حوالے سے سوالات کیے۔ ریپر نے کہا کہ اسٹیج پر ماحول بالکل مختلف تھا اور انہیں اندازہ نہیں ہوا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

My heart has no place for hate.

My art has no borders. If me raising an Indian flag sparks controversy so be it. I’ll do it again.. will never care about the media, the war mongering governments and their propagandas. Urdu Rap is and will always be borderless.. ???????? ???????? ????????

— Talha Anjum (@talhahanjum) November 16, 2025

طلحہ انجم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا مشہور ڈِس ٹریک ’کون طلحہ‘ پرفارم کر رہے تھے، یہ گانا بھارتی ریپر نَیزی کے خلاف لکھا گیا ہے۔ اس دوران ایک بھارتی نوجوان نے احترام سے بھارتی پرچم ان کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ انہوں نے اسے اسٹیج پر موجود بھارتی مداحوں کی جانب سے حمایت کے اظہار کے طور پر سمجھا۔

ریپر کے مطابق جذباتی لمحے میں انہوں نے پرچم تھام لیا، تاہم انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ اسے کتنی دیر تک ہاتھ میں لیے کھڑے رہے۔

میزبان نے توجہ دلائی کہ وہ پرچم فوراً رکھ بھی سکتے تھے، جس پر طلحہ انجم نے کہا کہ انہیں اس وقت یہ احساس بھی نہیں ہوا کہ وہ کب تک اسے تھامے ہوئے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی بات میں یہ بھی کہا کہ اگر ان کے کسی عمل سے کسی کا دل دکھا ہے تو وہ دل سے معذرت خواہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کی وجہ سے ہوں، لوگ مجھے دنیا بھر میں پاکستانی ریپر کے طور پر ہی پہچانتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان انٹرنیشنل اسکرین ایوارڈز  کے لیے نامزدگیوں کا اعلان، کون کون شامل ہے؟

یہ وضاحت اور معافی ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر طلحہ انجم سخت تنقید کی زد میں تھے۔

خاص طور پر اس لیے کہ ابتدائی طور پر انہوں نے اپنے عمل کا دفاع کیا تھا اور پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ ان کے فن کی کوئی سرحد نہیں اور اگر اس پر تنازعہ بنتا ہے تو وہ دوبارہ بھی یہی کریں گے۔

بعد ازاں مسلسل تنقید کے بعد طلحہ انجم کا رویہ نرم ہوا اور انہوں نے واضح کیا کہ ان کا کسی کو تکلیف پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت بھارتی پرچم پاکستان ریپر طلحہ انجم طلحہ معافی نیپال

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت بھارتی پرچم پاکستان ریپر طلحہ انجم طلحہ معافی نیپال بھارتی پرچم انہوں نے ہوا کہ کہا کہ

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا