لاہور (خبر نگار) ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کیخلاف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے رات کو ریسٹورنٹس کی انسپکشن کا حکم دیدیا۔ عدالت نے پودے لگانے کے لیے ایل ڈی اے کو فنڈز فراہم کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر احکامات پر عملدرآمد کی رپورٹس طلب کرلیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ریسٹورنٹس کے رات گئے تک کھلے رہنے کی شکایات ہیں، ڈی جی ماحولیات اپنے افسروں کو متحرک کریں، درخت کاٹنے پر پہلے ہی پابندی ہے، گھروں میں لگے درختوں کو بھی نہیں کاٹنا چاہیے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بہاولپور کی طرف سے آنے والے گاڑیوں کے دھوئیں کو روکنے پر کام ہونا چاہیے، سڑکوں پر ابھی بھی دھواں دینے والی گاڑیاں نظر آتی ہیں۔ ڈی جی ماحولیات کو کہیں کہ وہ دو ہفتے سڑکوں پر نظر آئیں، کراچی جانے والی ٹریفک کا دھواں لاہور کی طرف آتا ہے۔ لاہور میں تعمیرات ابھی بھی جاری ہیں۔ ایل ڈی اے، واسا ان پراجیکٹس کو کیوں مکمل نہیں کر رہے۔ محکمہ ماحولیات کی رپورٹ میں موقف اپنایا گیا کہ اب گاڑیاں محکمہ ماحولیات کے سرٹیفکیٹ کے بغیر رجسٹرڈ نہیں ہوں گی۔ ممبر کمیشن نے موقف اپنایا کہ واسا نے 15 سکیمیں مکمل کرکے ایل ڈی اے کے حوالے کردیں۔ واسا کی لاہور میں 27 سائٹس پر ابھی کام جاری ہے۔ ری چارج واٹر ویلز واسا نے نصب کرنے شروع کردئیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: عدالت نے

پڑھیں:

میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔

ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔

مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے

تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔

رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی