وینزویلا امریکا کے لیے دوسرا ویتنام؟؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امیر محمد کلوڑ
وینزویلا براعظم جنوبی امریکا میں واقع تین کروڑ تیس لاکھ آبادی کا ایک سوشلسٹ ملک ہے جن کے صدور ہمیشہ امریکا کے لیے ایک Tough Guy (مشکل) رہے ہیں حالیہ صدر سے پہلے 1999-2013: ہوگو چاویز کا دور رہا ہے جوکہ امریکا کے خلاف جارحانہ بیان دینے میں مشہور تھے۔ شاویز نے سوشلزم، امریکا مخالف پالیسی اور فلسطین حمایت اپنائی امریکا نے ابتدائی طور پر سفارتی دباؤ، اقتصادی پابندیاں اور میڈیا تنقید کے ذریعے ردعمل دیاؤ براہِ راست فوجی مداخلت نہیں، صرف سیاسی اور معاشی دباؤ برقرار رکھا۔ اس کے بعد 2013 سے اب تک نکولس مادورو ہی ملک کی باگ دوڑ سنبھالے ہوئے ہیں۔ وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر کا حامل ہے اس کے بعد دنیا میں سعودی عرب کا نام آتا ہے ’’ثابت شدہ تیل کے ذخائر (Proven Oil Reserves)‘‘ کا مطلب ہے وہ تیل کی مقدار جو موجودہ ٹیکنالوجی اور اقتصادی حالات میں نکالی جا سکتی ہے اور تجارتی طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔ وینزویلا میں تقریباً 300-305 ارب بیرل تیل ثابت شدہ ذخائر کے طور پر ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب فوراً نکالا جا سکتا ہے، لیکن موجودہ ٹیکنالوجی اور تیل کی قیمت کے حساب سے یہ نکالنے کے قابل ہے، یہی وجہ ہے کہ وینزویلا کی معیشت اور عالمی اہمیت کا بڑا حصہ تیل پر ہے۔
ٹرمپ جو دنیا بھر کے ٹھیکیدار اور صاحب بہادر بنے پھرتے ہیں اب ان کا رخ جنوبی امریکا کے ملک وینزویلا کی طرف ہے۔ جہاں کے صدر نکولاس مادورو جوکہ کئی سال تک وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں بس ڈرائیور رہے اور اس کے بعد ٹریڈ یونین کے لیڈر کے طور پر ابھرے۔ فلسطین کی کھل کر حمایت کرنے والے 23 نومبر کو اپنی 63 ویں سالگرہ منائیں گے۔ لیکن ٹرمپ کے حالیہ بیان نے صدر مادورو کو اور وینزویلا کے عوام کو وقتی طور پر پریشان کردیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ وینزویلا میں امریکی فوج بھیجنے کے امکان کو ’’مسترد نہیں کرتا‘‘۔ ان کے مطابق، انہیں ’’وینزویلا کا خیال کرنے کی ضرورت ہے‘‘، یعنی نہ صرف منشیات کے مسئلے کی بات، بلکہ ملک کی قیادت پر بھی تنقید ہے۔
ڈرگ اسمگلنگ کے الزامات: ٹرمپ بار بار مادورو حکومت پر الزام لگاتا ہے کہ وہ منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہے، خصوصاً ’’Cartel de los Soles‘‘ کی بات کرتا ہے۔ امریکا نے حال ہی میں کیریبین میں ایک کشتی پر حملہ کیا جو منشیات لے جانے کی شک میں تھی، اور ٹرمپ نے اس کارروائی کو ’’منشیات کے خلاف جنگ‘‘ قرار دیا ہے۔ امریکا نے USS Gerald R.
روس اور چین: یہ دونوں مل کر امریکا کے لیے سیاسی سر درد بنیں گے۔ لاطینی امریکا کے تقریباً تمام ممالک نے جنگی بیڑے بھیجنے کی شدید مخالفت کی ہے۔ برازیل، میکسیکو، چلی، پیرو، ارجنٹینا ان ممالک نے کہا ہے کہ ’’وینزویلا کا مسئلہ سیاسی ہے، اس کا حل فوجی نہیں ہونا چاہیے‘‘ برازیل کے صدر نے کہا امریکا کا عسکری دباؤ پورے خطے کو عدم استحکام میں دھکیل دے گا۔ لاطینی امریکا نے ہمیشہ ’’No Foreign Military Intervention‘‘ کی پالیسی رکھی ہے۔ امریکا کے اقدام کو ’’غیر قانونی، خطرناک اور خطے کے امن کے خلاف‘‘ قرار دیا۔ روس نے کہا ہے کہ امریکا وینزویلا کو ’’دوسرا عراق، دوسرا لیبیا‘‘ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ روس نے اپنی فضائی اور سمندری فورسز کی Combative Readiness بڑھانے کی بات کی ہے (علامتی پیغام امریکا کو دیا گیا ہے)۔
چین کا ردِعمل بھی سخت ہے: چین نے کہا کہ وہ ’’وینزویلا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام‘‘ کرتا ہے۔ چین نے امریکا کے اقدام کو ’’بے جواز فوجی دھمکی‘‘ کہا۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ ’’تیل کے بہانے جنگ کرنا عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے‘‘۔ بہرحال امریکن ریپبلکن پارٹی کے صدر ٹرمپ کو آج کل اپنے ہی ملک میں سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تازہ نیویارک سٹی میئر کے انتخابات میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ بھارتی نژاد مسلمان زہران ممدانی کی شکل میں۔ جہاں پر بلین ڈالرز کے مالک ایلن مسک اور ڈونالڈ ٹرمپ جیسے لوگ ہارنے کے بعد اب تک زخم چاٹتے نظر آرہے ہیں۔ جیسا کہ میں اپنے گزشتہ کالموں میں بھی کہتا آرہا ہوں کہ شاید کارخانہ قدرت میں امریکا کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے میں قرعہ فال ٹرمپ کے ہی کھاتے میں آنے کا امکان ہے جیسے روس کے لیے گورباچوف ثابت ہوئے تھے اس طرح یہ فرعونیت کے مینار امریکا کے گورباچوف ثابت ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکا نے امریکا کے کے لیے کے بعد نے کہا
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔