Jasarat News:
2026-06-03@00:25:31 GMT

وینزویلا امریکا کے لیے دوسرا ویتنام؟؟

اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امیر محمد کلوڑ
وینزویلا براعظم جنوبی امریکا میں واقع تین کروڑ تیس لاکھ آبادی کا ایک سوشلسٹ ملک ہے جن کے صدور ہمیشہ امریکا کے لیے ایک Tough Guy (مشکل) رہے ہیں حالیہ صدر سے پہلے 1999-2013: ہوگو چاویز کا دور رہا ہے جوکہ امریکا کے خلاف جارحانہ بیان دینے میں مشہور تھے۔ شاویز نے سوشلزم، امریکا مخالف پالیسی اور فلسطین حمایت اپنائی امریکا نے ابتدائی طور پر سفارتی دباؤ، اقتصادی پابندیاں اور میڈیا تنقید کے ذریعے ردعمل دیاؤ براہِ راست فوجی مداخلت نہیں، صرف سیاسی اور معاشی دباؤ برقرار رکھا۔ اس کے بعد 2013 سے اب تک نکولس مادورو ہی ملک کی باگ دوڑ سنبھالے ہوئے ہیں۔ وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر کا حامل ہے اس کے بعد دنیا میں سعودی عرب کا نام آتا ہے ’’ثابت شدہ تیل کے ذخائر (Proven Oil Reserves)‘‘ کا مطلب ہے وہ تیل کی مقدار جو موجودہ ٹیکنالوجی اور اقتصادی حالات میں نکالی جا سکتی ہے اور تجارتی طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔ وینزویلا میں تقریباً 300-305 ارب بیرل تیل ثابت شدہ ذخائر کے طور پر ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب فوراً نکالا جا سکتا ہے، لیکن موجودہ ٹیکنالوجی اور تیل کی قیمت کے حساب سے یہ نکالنے کے قابل ہے، یہی وجہ ہے کہ وینزویلا کی معیشت اور عالمی اہمیت کا بڑا حصہ تیل پر ہے۔

ٹرمپ جو دنیا بھر کے ٹھیکیدار اور صاحب بہادر بنے پھرتے ہیں اب ان کا رخ جنوبی امریکا کے ملک وینزویلا کی طرف ہے۔ جہاں کے صدر نکولاس مادورو جوکہ کئی سال تک وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں بس ڈرائیور رہے اور اس کے بعد ٹریڈ یونین کے لیڈر کے طور پر ابھرے۔ فلسطین کی کھل کر حمایت کرنے والے 23 نومبر کو اپنی 63 ویں سالگرہ منائیں گے۔ لیکن ٹرمپ کے حالیہ بیان نے صدر مادورو کو اور وینزویلا کے عوام کو وقتی طور پر پریشان کردیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ وینزویلا میں امریکی فوج بھیجنے کے امکان کو ’’مسترد نہیں کرتا‘‘۔ ان کے مطابق، انہیں ’’وینزویلا کا خیال کرنے کی ضرورت ہے‘‘، یعنی نہ صرف منشیات کے مسئلے کی بات، بلکہ ملک کی قیادت پر بھی تنقید ہے۔

ڈرگ اسمگلنگ کے الزامات: ٹرمپ بار بار مادورو حکومت پر الزام لگاتا ہے کہ وہ منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہے، خصوصاً ’’Cartel de los Soles‘‘ کی بات کرتا ہے۔ امریکا نے حال ہی میں کیریبین میں ایک کشتی پر حملہ کیا جو منشیات لے جانے کی شک میں تھی، اور ٹرمپ نے اس کارروائی کو ’’منشیات کے خلاف جنگ‘‘ قرار دیا ہے۔ امریکا نے USS Gerald R.

Ford دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز کیریبین میں تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ حرکت بہت بڑی عسکری نشان دہی ہے، جو وینزویلا پر امریکی دباؤ بڑھانے کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ اگر امریکا حملہ کرے تو اصل صورتحال کیا بنے گی؟ امریکا آسانی سے قبضہ نہیں کر سکتا۔ وینزویلا کا جغرافیہ بہت مشکل ہے۔ یہاں پر بڑے گھنے جنگلات اور پہاڑ ہیں فوج اور عوامی ملیشیا بہت بڑی ہے، جنگ لمبی اور مہنگی ہو جائے گی، عالمی سطح پر امریکا کو شدید مخالفت ملے گی۔

روس اور چین: یہ دونوں مل کر امریکا کے لیے سیاسی سر درد بنیں گے۔ لاطینی امریکا کے تقریباً تمام ممالک نے جنگی بیڑے بھیجنے کی شدید مخالفت کی ہے۔ برازیل، میکسیکو، چلی، پیرو، ارجنٹینا ان ممالک نے کہا ہے کہ ’’وینزویلا کا مسئلہ سیاسی ہے، اس کا حل فوجی نہیں ہونا چاہیے‘‘ برازیل کے صدر نے کہا امریکا کا عسکری دباؤ پورے خطے کو عدم استحکام میں دھکیل دے گا۔ لاطینی امریکا نے ہمیشہ ’’No Foreign Military Intervention‘‘ کی پالیسی رکھی ہے۔ امریکا کے اقدام کو ’’غیر قانونی، خطرناک اور خطے کے امن کے خلاف‘‘ قرار دیا۔ روس نے کہا ہے کہ امریکا وینزویلا کو ’’دوسرا عراق، دوسرا لیبیا‘‘ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ روس نے اپنی فضائی اور سمندری فورسز کی Combative Readiness بڑھانے کی بات کی ہے (علامتی پیغام امریکا کو دیا گیا ہے)۔

چین کا ردِعمل بھی سخت ہے: چین نے کہا کہ وہ ’’وینزویلا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام‘‘ کرتا ہے۔ چین نے امریکا کے اقدام کو ’’بے جواز فوجی دھمکی‘‘ کہا۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ ’’تیل کے بہانے جنگ کرنا عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے‘‘۔ بہرحال امریکن ریپبلکن پارٹی کے صدر ٹرمپ کو آج کل اپنے ہی ملک میں سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تازہ نیویارک سٹی میئر کے انتخابات میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ بھارتی نژاد مسلمان زہران ممدانی کی شکل میں۔ جہاں پر بلین ڈالرز کے مالک ایلن مسک اور ڈونالڈ ٹرمپ جیسے لوگ ہارنے کے بعد اب تک زخم چاٹتے نظر آرہے ہیں۔ جیسا کہ میں اپنے گزشتہ کالموں میں بھی کہتا آرہا ہوں کہ شاید کارخانہ قدرت میں امریکا کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے میں قرعہ فال ٹرمپ کے ہی کھاتے میں آنے کا امکان ہے جیسے روس کے لیے گورباچوف ثابت ہوئے تھے اس طرح یہ فرعونیت کے مینار امریکا کے گورباچوف ثابت ہوں گے۔

سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکا نے امریکا کے کے لیے کے بعد نے کہا

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر