امریکا نے غزہ کی طویل مدت تقسیم کا منصوبہ تیار کرلیا، گارڈین کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
برطانوی جریدے کے مطابق غزہ میں مستقل امن اور فلسطینی حکمرانی سے متعلق امریکی وعدوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے امریکی منصوبوں پر شدید تحفظات برقرار ہیں اور یہ خدشہ ہے کہ امن فورس اسرائیلی انخلا اور تعمیر نو کے بغیر غزہ میں پھنس جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ معروف برطانوی جریدے گارڈین نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے غزہ کی طویل مدت تقسیم کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا نے غزہ کو گرین زون اور ریڈ زون میں تقسیم کرنے کی تجویز دی ہے، گرین زون اسرائیلی و عالمی فوجی کنٹرول میں ہوگا جبکہ ریڈ زون ملبہ رہے گا، ابتدائی مرحلے میں غیر ملکی فوجی دستے اسرائیلی اہلکاروں کیساتھ تعینات ہوں گے، گرین زون کی تعمیر نو سے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کی حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے، امریکا نے متبادل محفوظ کمیونیٹیز کا منصوبہ ترک کر دیا۔ برطانوی جریدے کے مطابق غزہ میں مستقل امن اور فلسطینی حکمرانی سے متعلق امریکی وعدوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے امریکی منصوبوں پر شدید تحفظات برقرار ہیں اور یہ خدشہ ہے کہ امن فورس اسرائیلی انخلا اور تعمیر نو کے بغیر غزہ میں پھنس جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے یورپی ممالک کو امن فورس کا بنیادی حصہ بنانے کی تجویز بھی دی ہے، یورپی ممالک کی جانب سے فوج بھیجنے سے ہچکچاہٹ کے باعث منصوبہ غیر حقیقی قرار دیا گیا ہے، ابتدائی چند سو اہلکار اور پھر بعدازاں 20 ہزار فوجیوں تک فورس بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے، جارحانہ کارروائیوں کے خدشات پر فوجی دستے صرف گرین زون میں تعینات ہوں گے۔ گارڈین کے مطابق امریکی منصوبے میں اسرائیلی انخلا کا کوئی واضح ٹائم فریم نہیں دیا گیا، فلسطینی پولیس فورس کو محدود کردار تک رکھا گیا ہے، غزہ میں 80 فیصد سے زائد تباہی ہے، فوری تعمیر نو کی اشد ضرورت ہے، معصوم فلسطینیوں کیلئے امداد کی ترسیل میں اسرائیلی کی جانب سے رکاوٹیں برقرار ہیں، 20 لاکھ سے زائد فلسطینی ریڈ زون میں بے گھر اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔