اجلاس میں لیویز اہلکاروں اور افسران کو پولیس فورس میں شمولیت کے بعد پیش آنیوالے مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، اور انکے حل پر بحث ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان میں لیویز فورس کے پولیس میں انضمام سے متعلق انتظامی اور تکنیکی نکات پر اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس آج کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کی، جبکہ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، آئی جی پولیس محمد طاہر خان، ڈی جی لیویز عبدالغيفار مگسی، رسالدار میجرز اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں لیویز اہلکاروں اور افسران کو پولیس فورس میں شمولیت کے بعد پیش آنے والے مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور انہیں حل کرنے کے لیے متبادل انتظامی سفارشات پیش کی گئیں۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ رسالدار میجرز کو ون اسٹیپ ترقی سمیت تمام کیڈرز کے افسران و اہلکاروں کی ترقی، تبادلے اور سینیارٹی سے متعلق معاملات کو جلد حتمی شکل دی جائے، تاکہ انضمام کا عمل بغیر رکاؤٹ اور احترام کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ لیویز اور پولیس کے انضمام میں میرٹ اور شفافیت بنیادی اصول ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے فورسز کی استعداد بڑھانے کے لیے جدید تربیت، نئے ماڈیولز اور لیویز اہلکاروں کو پولیس کی بنیادی ٹریننگ دینے کی ہدایت بھی جاری کی۔ انکا کہنا تھا کہ انضمام کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی، ہم آہنگی اور رابطہ کاری میں نمایاں بہتری آئے گی، جس کا براہ راست فائدہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار