سینیٹ: پاکستان آرمی، نیوی اور ایئر فورس ترمیمی بل 2025 کثرت رائے سے منظور
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
سینیٹ اجلاس میں پاکستان آرمی ترمیمی بل 2025 وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے پیش کیا گیا اور کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اجلاس میں افواج پاکستان سے متعلق بلز پیش کرنے کے لیے رولز معطل کرنے کی تحریک بھی منظور ہوئی اور اپوزیشن نے اس کی مخالفت نہیں کی۔
مزید پڑھیں: جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا
اسی طرح، سینیٹ نے آج پاکستان ایئر فورس ترمیمی بل 2025 اور پاکستان نیوی ترمیمی بل 2025 بھی کثرت رائے سے منظور کر دیے۔ پاکستان ایئر فورس بل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیش کیا، جبکہ نیوی بل وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایوان میں پیش کیا۔
ان ترمیمی بلز کے ذریعے متعلقہ قانون سازی کو 27ویں آئینی ترمیم کے مطابق اپ ڈیٹ کیا گیا ہے تاکہ افواج پاکستان کے قانونی فریم ورک کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔
اجلاس کے دوران چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ بل اگر کمیٹی میں بھیجنا ہوتا تو ایوان کی رائے ضروری تھی، لیکن جب اکثریت منظور کر رہی ہے تو وہ اکیلے ایسا نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پارلیمانی لیڈر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ مصروف تھے۔
مزید پڑھیں: 27 ویں آئینی ترمیم: پی ٹی آئی کے مستعفی سینیٹر کے ووٹ سے مزید شقیں سینیٹ سے کیسے منظور ہوئیں؟
اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران ممبران نے وزارتوں کی جانب سے معلومات کی تاخیر اور ایس او ایز کے افسران کی مراعات پر بھی اعتراضات اٹھائے، جس پر وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے مکمل وضاحت فراہم کی اور یقین دہانی کرائی کہ ممبران کے سوالات کے جوابات دیے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان آرمی ترمیمی بل 2025 پاکستان ایئر فورس ترمیمی بل 2025 پاکستان نیوی ترمیمی بل 2025 سینیٹ اجلاس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان آرمی ترمیمی بل 2025 پاکستان ایئر فورس ترمیمی بل 2025 پاکستان نیوی ترمیمی بل 2025 سینیٹ اجلاس ایئر فورس
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔