قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد آرمی ایکٹ ترمیمی بل آج سینیٹ میں پیش کیا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
آرمی ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد آج سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، اس حوالے سے اجلاس کا ایجنڈا بھی جاری کر دیا گیا۔
جاری ایجنڈے کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظوری کے لیے سینیٹ میں پیش کریں گے۔
وزیر دفاع کی جانب سے پاکستان ائیر فورس ایکٹ ترمیمی بل اور پاکستان نیوی آرڈیننس ترمیمی بل بھی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی منظوری کے لیے ایوان میں پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ یہ تمام بل قومی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے منظور کیے جا چکے ہیں۔
قومی اسمبلی نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء، پاکستان ایئرفورس ایکٹ 1953ء اور پاکستان نیوی آرڈیننس 1961ء میں ترامیم کثرت رائے سے منظور کی تھی۔
آرمی چیف کو اگلے پانچ برس کے لیے چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی ا رمی ایکٹ منظوری کے میں پیش کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔