WE News:
2026-07-24@09:40:26 GMT

آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2025 سینیٹ سے منظور

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2025 سینیٹ سے منظور

سینیٹ کے اجلاس میں جمعہ کے روز آرمی ایکٹ ترمیمی بل پیش کیا گیا، جو بعد ازاں اکثریتی رائے سے منظور بھی کر لیا گیا۔

بل سینیٹر اسحاق ڈار نے ایوان میں پیش کیا، جن کے مطابق پاکستان آرمی ایکٹ 1952 سمیت پاک نیوی اور پاک فضائیہ کے ایکٹس میں بھی ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایوان پہلے ہی 27ویں آئینی ترمیم منظور کر چکا ہے، جس کے بعد عسکری ایکٹس میں تکنیکی ترامیم ناگزیر تھیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ترامیم آئینی نہیں بلکہ اداروں کے اندرونی قوانین میں بہتری کے لیے کی جا رہی ہیں۔

اجلاس کے دوران سینیٹر کامران مرتضیٰ اور سینیٹر ہمایوں مہمند نے اپنی مجوزہ ترامیم متعلقہ کمیٹی کو بھیجنے کی درخواست کی۔ اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پیش کردہ تبدیلیاں آئینی نوعیت کی نہیں بلکہ آرمی ایکٹ کے اندرونی معاملات کو بہتر بنانے سے متعلق ہیں، اس لیے ان پر مزید بہتری کے لیے کام جاری رکھا جائے گا۔

ایوان نے بحث کے بعد آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری دے دی، جس کے ساتھ پاک فوج، نیوی اور فضائیہ کے ایکٹس میں ترمیم کا عمل آگے بڑھا دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آرمی ایکٹ ترمیمی بل چیئرمین سینیٹ سینیٹ یوسف رضا گیلانی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا رمی ایکٹ چیئرمین سینیٹ سینیٹ یوسف رضا گیلانی ایکٹ ترمیمی بل آرمی ایکٹ

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن